خطبات محمود (جلد 18) — Page 621
خطبات محمود ۶۲۱ سال ۱۹۳۷ء ا صلى الله جو کسی کو اپنے ساتھ لاتا ہے وہ اس کی رعیت ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " کہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر شخص نگران ہے ۔ ہر شخص گڈریا ہے۔ ہر شخص محافظ ہے۔ ہر شخص بادشاہ ہے ۔ وَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ اور تم میں سے ہر شخص اپنے رعیت کے متعلق جس کی نگرانی جس کی بادشاہت اور جس کی حفاظت اس کے سپرد کی گئی ہے ، سوال کیا جائے گا ۔ اور اس سے پوچھا جائے گا کہ اس نے کیا نگرانی کی۔ تو ہر شخص جو کسی غیر احمدی کو اپنے ساتھ لاتا ہے وہ اس کا نگران ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ یہ خیال رکھے کہ اُس کا وقت صحیح طور پر خرچ ہوا اور مفید کاموں میں خرچ ہو۔ تا وہ یہاں سے جاتے وقت برکت اپنے ساتھ لے جائے ۔ اگر کوئی شخص کسی غیر احمدی کو اپنے ساتھ لاتا ہے مگر پھر اسے چھوڑ دیتا ہے اور وہ ایسے مقامات پر جاتا یا ایسی صحبت میں بیٹھتا ہے جہاں سے وہ بُرے اثرات سے متاثر ہو جاتا ہے۔ تو یہ تو وہی مثال ہوگی کہ ع و یکے نقصان مایه دگر شماتت ہمسایہ اُس نے روپیہ بھی اس پر ضائع کیا اور پھر اپنے لئے ایک خار اور کانٹا بھی پیدا کر لیا۔ اسی طرح میں قادیان کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ گو یہ نصیحت ہر سال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی مگر چونکہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے احکام لوگوں کی یاد دہانی کیلئے دُہراتا رہتا ہے اور ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم اُس کی صفات کی نقل کریں ، اس لئے میں بھی اس سنت میں اس نصیحت کو دہراتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جوں جوں جلسہ سالانہ پر لوگوں کی آمد بڑھتی چلی جاتی ہے اسی طرح قادیان والوں پر ان کی ذمہ داری بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہر سال قادیان کی آبادی بڑھا تا چلا جاتا وہ کی ہے ۔ ورنہ جتنا اجتماع جلسہ سالانہ پر اب ہوا کرتا ہے اگر اس کے مقابلہ میں قادیان کی آبادی اتنی ہی رہتی جتنی پرانی آبادی تھی تو غالباً وہی طریق ہمارے ہاں بھی رائج ہو جاتا جو پُرانے عرسوں پر رائج ہے کہ ایک وقت کی اور وہ بھی مقررہ روٹی لوگوں کو دے دیتے ہیں ۔ یعنی ایک دو روٹیاں ہوتی ہیں اور ان پر کچھ سالن رکھا ہوا ہوتا ہے اور پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے بس اتنا ہی ہو سکتا ہے، باقی انتظام آپ خود کر لیں۔ اگر یہاں بھی اتنے ہی آدمی رہتے جتنے پرانی آبادی کے وقت ہوا کرتے تھے تو غالباً جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کو ہمیں ایک وقت کی روٹی دینی بھی مشکل ہو جاتی ۔ مگر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا توازن رکھا ہوا ہے کہ ادھر جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کی تعداد بڑھاتا ہے تو ادھر قادیان کی