خطبات محمود (جلد 18) — Page 622
خطبات محمود ۶۲۲ سال ۱۹۳۷ء آبادی کو بھی بڑھا دیتا ہے۔پس یا درکھنا چاہئے کہ ہمارے گھر جوں جوں بڑھتے ہیں ان کی ترقی میں ایک حصہ ان مہمانوں کا بھی ہوتا ہے جو جلسہ سالانہ پر آتے ہیں اور ہمارے جس قدر اوقات ہیں ان میں بھی ایک حصہ جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کا ہوتا ہے۔اس لئے قادیان کے دوستوں کو اپنے مکانات کی جلسہ سالانہ کے مہمانوں کیلئے پیش کرنے میں کسی قسم کا بخل نہیں کرنا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر کسی کا کوئی نیا مکان بنا ہوا ہو تو اُس کے دل کو یہ بُرا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکان اور لوگوں کے استعمال کیلئے دے دے۔لیکن اس میں بُرا محسوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو چیز خدا تعالیٰ کے ر۔میں خرچ کرنے سے انسان ڈرے وہ چیز رکھنے کے قابل ہی نہیں ہوتی۔دنیا میں تمام فتنے اسی نقص کی وجہ ان سے پیدا ہوتے ہیں۔اسی نقص کی وجہ سے امراء غرباء کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے اور یہی چیز قوم میں تفرقہ پیدا کرتی اور امراء وغرباء میں ایک دیوار حائل کر دیتی ہے۔پھر وہ مکان جس کو انسان خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے پیش نہ کر سکے وہ اسے برکت کیا دے گا۔اس نے تو اسے خدا تعالیٰ کے دین کی کی خدمت سے محروم کر دیا۔اگر وہ مکان اس نے نہ بنایا ہوتا تو یہ اس کیلئے زیادہ بہتر ہوتا۔کیونکہ جب تک اس نے مکان نہیں بنایا تھا اس کے دل میں کوئی وسوسہ نہیں تھا۔اُسے خدمت دین سے کوئی اعراض نہیں تھا۔مگر جونہی اُس نے مکان بنالیا اُس کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہونے لگ گیا کہ اگر میں نے مکان دیا تو ی یہ خراب ہو جائے گا۔میں نے جب دارالانوار کا مکان بنایا تو پہلے سال مجھ سے کئی دوستوں نے کہا کہ یہ مکان جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو نہ دیا جائے ، خراب ہو جائے گا۔گو میں نے انہیں کہا کہ میں تو اس مکان کو آگ لگانے کیلئے تیار ہوں جس مکان کے متعلق میرے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر میں نے اسے خدمت دین کیلئے دیا تو وہ خراب ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے دوستوں سے کہا کہ سب سے پہلے اس مکان کو جلسہ سالانہ کے لئے استعمال کرو تا کہ ان کے ٹھہرنے کی وجہ سے اس میں برکت پیدا ہو جائے۔چنانچہ پہلے وہ لوگ رہے اور پھر ہم کچھ عرصہ کیلئے وہاں گئے۔گو بعد میں وہاں سے گاتی طور پر واپس آگئے۔تو میں نہیں سمجھ سکتا وہ مکانات اور وہ چیزیں ہمارے لئے کسی قسم کی برکت کا بھی موجب ہوسکتی ہیں جن کے متعلق ہمیں یہ خیال ہو کہ اگر ہم نے انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کیا تو وہ خراب ہو جائیں گی۔ایسے مکانات توی انسان کیلئے رحمت کا موجب نہیں بلکہ وبال اور عذاب کا موجب ہیں اور جس طرح عذاب لینے کیلئے کوئی