خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 620

خطبات محمود ۶۲۰ سال ۱۹۳۷ء تابع ہوتی ہے امام کی آمین کے اور اس حدیث میں رسول کریم ﷺ نے جس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ امام کے ساتھ چلتے ہیں انہی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہے پھر دعائیں ہیں۔شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ امام نماز میں بلند آواز دعائیں مانگے اور مقتدی آمین کہیں۔چنانچہ رسول کریم ہے بعض دفعہ مہینوں اس رنگ میں دعائیں کرتے تھے تو نماز میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا طریق رکھا ہے کہ بعض جگہ لوگوں کو کلیہ امام کے تابع کر دیا ہے۔امام کہتا الله اكبر اور مقتدی بھی کہتا ہے اللہ اکبر۔امام رکوع میں جاتا ہے تو مقتدی بھی رکوع میں چلا جاتا ہے۔امام سجدہ میں جاتا ہے تو مقتدی بھی سجدہ میں جھک جاتا ہے۔لیکن جو خاموشی کا حصہ ہوتا ہے اس میں ہر شخص آزاد ہوتا ہے اور ہمیں نظر آتا ہوتا ہے کہ مقتدی کچھ کہ رہا ہوتا ہے اور امام کچھ۔تو دونوں قسم کی عبادتیں خدا تعالیٰ نے نماز میں رکھ دی ہیں۔ایسی بھی جن میں اسے حکم ہے کہ امام کے ساتھ ساتھ کی چلے اور ایسی بھی جو مستقل ہیں اور جن میں اپنے طور پر جو جی چاہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگ سکتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں طبائع کا علاج کر دیا ہے۔اُن کا بھی جو دوسروں کو ذکر میں مشغول دیکھ کر ذکر کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور ان کا بھی جنہیں اُس وقت عبادت میں لذت آتی ہے جب وہ علیحدہ کی ہوں۔چنانچہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں مجلس میں دعا کرتے وقت رقت آتی ہی نہیں مگر بعض ایسے کی ہوتے ہیں کہ جونہی وہ کسی کی چیخ سنتے ہیں ان کی بھی چیخیں نکل جاتی ہیں۔پہلے انہیں جوش نہیں آتا لیکن دوسرے کا جوشِ گر یہ دیکھ کر بے اختیار خود بھی رو پڑتے ہیں۔یہ کوئی بُری بات نہیں مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ ایک عادت ہے جو بعض لوگوں کو ہوتی ہے اور انہی لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز کا ایک حصہ جہری بھی رکھا ہے تا دوسروں کی تاثیر کو دیکھ کر ان میں روحانیت کے حصول کا جوش اور ولولہ پیدا ہو۔پس جلسہ سالانہ میں بھی دونوں قسم کی عبادتیں کرنی چاہئیں۔یعنی دوستوں کو چاہئے کہ جب تک وہ جلسہ گاہ میں رہیں لیکچر سنیں۔احمدیت کی تعلیم سے واقفیت پیدا کریں۔قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات سے آگاہی حاصل کریں اور جب جلسہ سے فارغ ہوں تو نمازیں پڑھیں، دعائیں کریں، مقامات مقدسہ کی زیارت کریں اور اُن آدمیوں سے ملیں جن سے مل کر ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو۔مگر اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور نہ کھیل کو د اور لغو کاموں میں اسے رائیگاں جانے دیں۔اسی طرح جو غیر احمدی دوست باہر سے آتے ہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔ہر شخص