خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 584

خطبات محمود ۵۸۴ سال ۱۹۳۷ء شکایت کرتا ہے اور ان تمام اتہاموں ، ان تمام الزاموں ، ان تمام اعتراضوں اور ان تمام نکتہ چینیوں کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آؤ اور سچے مسلمان بن جاؤ ، آؤ اور بچے احمدی بن جاؤ۔لوگ کہتے ہیں کہ یہاں سختی کی جاتی ہے مگر میں کہتا ہوں کس بات پر ؟ تم وہ باتیں نکالو جن کی بناء پر تم کہتے ہو کہ تم سے سختی کی جاتی ہے۔پھر تمہیں معلوم ہوگا کہ کس بات پر سختی کی جاتی ہے۔تم پر اس وجہ سے سختی کی جاتی ہے کہ تم میں سے بعض اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو دے دیتے ہیں مگر کیا اس سے مجھے ذاتی طور پر کوئی فائدہ ہے ؟ تم میرے پاس آتے ہو اور اپنے منہ سے کہتے ہو کہ ہم احمدیت کا جوا اٹھانے کیلئے تیار ہیں، میں تمہاری بیعت لیتا ہوں اور تم احمدیت میں شامل ہو جاتے ہو۔اس کے بعد تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ تم احمدیت کی تعلیم پر عمل کرو۔اگر تم اس کی تعلیم پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ منافق مت بنو۔یا تم پورے احمدی بن جاؤ یا احمدیت سے الگ ہو جاؤ۔مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم آپ میرے پاس آتے اور احمدیت کو قبول کرتے ہو، تم پر کوئی جبر نہیں ہوتا تم سے کوئی زبردستی نہیں کی جاتی تم اپنی رضا و رغبت اور خوشی سے احمدیت قبول کرتے ہو، تم اپنی رضا ورغبت سے مجھے اپنا استاد تسلیم کرتے ہومگر جب کوئی کام تمہارے سپرد کیا جاتا ہے تو تم بہانے بنانے لگ جاتے ہو۔اس دھوکا اور فریب کا کیا فائدہ۔کیا تم خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہو اور سمجھتے ہو کہ اسے تمہارے اعمال کا علم نہیں ؟ تمہاری فطرت اور تمہارا دماغ کہتا ہے کہ احمدیت کے بغیر تمہاری نجات نہیں مگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں نجات بھی ملے جائے اور تم دل سے غیر احمدی کے غیر احمدی بھی بنے رہو۔کوئی انسان کسی دوسرے عقلمند انسان کو بھی دھوکا کی نہیں دے سکتا۔پھر تم کس طرح خیال کر لیتے ہو کہ تم خدا کو دھوکا دے لو گے۔یہی وہ احساس ہے جس کے ماتحت میں نے تحریک جدید کا آغاز کیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب اس قسم کے کمزور لوگوں کو جو احمدیت میں رہ کر جماعت کو بدنام کرتے ہیں زیادہ مہلت نہیں دی جاسکتی۔میں جماعت کو اسی امر کی طرف لا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کو اس پر ثبات حاصل ہو جائے گا۔مگر اس احساس کے تی باوجود میں پھر بھی مہلت دے دے کر تمہیں لا رہا ہوں تا کہ تم پر بوجھ نہ پڑے اور تم یکدم گھبرا نہ جاؤ۔میں م شخص جو جانتا ہوں کہ میرے اس ارادہ کی لازماً مخالفت ہوگی اور نہ صرف میری مخالفت ہوگی بلکہ ہر ھے میرے ساتھ تعاون کرے گا ، ہر شخص جو قانون کے دائرہ کے اندر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہے گا ، اس کی بھی مخالفت ہوگی۔لوگ بُرا منائیں گے ، وہ گالیاں دیں گے، وہ بد نام کریں گے ، وہ عیب چینی کریں