خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 583

خطبات محمود ۵۸۳ سال ۱۹۳۷ء میں روک نہیں بنتا۔بے شک بہت سے ایسے بھی حصے ہیں جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ان پر اُسی وقت عمل کیا جا سکتا ہے جب بادشاہت احمدیوں کو حاصل ہو۔مگر جب تک وہ وقت نہیں آتا وہ امور جن میں حکومت دخل نہیں دیتی ہمارا فرض ہے کہ ان میں اسلامی احکام نافذ کریں۔اگر ہم زندگی کے ان شعبوں میں بھی اسلامی احکام جاری نہیں کرتے جن میں ان احکام کا اجراء ہمارے لئے قانونا جائز ہے تو ی وو یقیناً ہم انسان نہیں طوطے ہیں۔جس طرح طوطا ”میاں مٹھو میاں مٹھو" کہتا رہتا ہے اور اگر میاں مٹھو کی بجائے اسے ”لا الہ الا اللہ سکھا دو تو وہ یہی کہتا رہے گا۔اسی طرح گوتم احمدی ہو مگر تم طوطے کی طرح اپنے آپ کو احمدی کہتے ہو اور سمجھتے نہیں کہ اپنے آپ کو احمدی کہنے کے بعد تم پر کس قدر ذمہ واریاں عائد ہوچکی ہیں۔پس جب تک اس اسلامی حکومت کو قائم کرنے کیلئے ہم اپنے نظام میں تبدیلی نہیں کرتے اس وقت تک ہم صرف نام کے احمدی ہیں کام کے احمدی نہیں۔مگر صرف نام لے لینے کی سے کیا بنتا ہے جب تک انسان کے اندر وہ حقیقت بھی نہ پائی جاتی ہو جو اس نام کے اندر ہو۔مجھے یاد ہے ہماری بہن امتہ الحفیظ دو اڑھائی سال کی تھی کہ ہمارے ہاں ایک مہمان آئے ان کی بھی ایک چھوٹی سی لڑکی تھی جو قریباً اسی عمر کی تھی۔اُس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی تھیں اور روشنی میں چونکہ نہیں کھلتی تھیں اس لئے وہ سمجھتی تھی کہ اور لوگوں کو بھی میری طرح دن میں نظر نہیں آتا۔امتہ الحفیظ کبھی کبھی حضرت مسیح موعود کے پاس جا کر کہا کرتی تھی کہ ابا مجھے چیجی دو اور حضرت مسیح موعود علیہ کی السلام اسے کوئی چیز کھانے کی دے دیا کرتے تھے۔اس لڑکی نے جو اسے اس طرح مانگتے دیکھا تو ایک دن خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جا کر ہاتھ پھیلا کر کہنے لگی حضرت صاحب ! میں جی ہوں ( امۃ الحفظ ) مجھے چیجی دیں۔یہی مثال تم میں سے بہتوں کی ہے۔تم بھی اسی خیال میں مست ہو کہ تم خدا کے سامنے جا کر کہہ دو گے کہ ہم مسلمان یا احمدی ہیں ہمیں انعام دو اور اسے مَعَاذَ اللہ ) کوئی علم نہیں ہوگا کہ تم کیا کرتے رہے ہو اور آیا تم انعام کے مستحق بھی ہو یا نہیں۔غرض اگر تم سچے دل سے لا اله الا لله کہ رہے ہوتو تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی حکومت قائم کرو۔لیکن اب تو تمہاری یہ حالت ہے کہ جو شخص تم میں سے اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے تم اس کے دشمن ہو جاتے ہو۔کوئی تم میں سے اس پر اعتراض کرتا ہے، کوئی تم میں سے اسے گالیاں دیتا ہے، کوئی تم میں سے اس پر اتہام لگاتا ہے، کوئی تم میں سے اس کے خلاف شکوہ و ان