خطبات محمود (جلد 18) — Page 585
خطبات محمود ۵۸۵ سال ۱۹۳۷ء گے اور بجائے اِس کے کہ اصل حقیقت بیان کریں ، غلط واقعات بیان کر کے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہیں گے۔مثلاً وہ یہ نہیں کہیں گے کہ انہوں نے شریعت کا فلاں قانون توڑا تھا جس کی انہیں سزا ملی۔یا غیر احمد یوں کو انہوں نے لڑکی دی تھی جس کی سزا ملی۔وہ کہیں گے ناظر امور عامہ نے مجھ پر ظلم کیا اور پھر یہ بتائیں گے نہیں کہ کیوں ظلم کیا اور کیا ظلم کیا۔پھر اگر کسی کو واقعہ کا کچھ علم ہوگا اور وہ اشارہ کہہ دے گا کہ لڑکی کا کیا واقعہ تھا۔تو کہہ دیں گے اصل بات یہ نہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ ناظر امور عامہ کی میرے ساتھ لڑائی ہے اور وہ خواہ مخواہ مجھے دق کرتا ہے۔غرض وہ اس طرح لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے لگ جائیں گے اور لوگ یہ نہیں سمجھیں گے کہ یہ بہانے بناتا ہے اور اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔تم می کبھی نہیں دیکھو گے کہ کوئی چور کہے بھائیو آؤ اور آنسو بہاؤ کہ میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہوں۔وہ یہی کہتا ہے کہ لوگوں کی مجھ سے دشمنی تھی۔فلاں جگہ میں بیٹھا تھا کہ انہوں نے گھاس کاٹ کر میری جھولی میں ڈال دیا اور مجھے چور چور کہہ کر پکڑوا دیا۔وہ کیوں ایسا کہے گا اور اصل حقیقت بیان نہیں کرے گا۔اس لئے کہ سچ بولنے سے اسے لوگوں کو ہمدردی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔مگر جھوٹ بول کر وہ سمجھتا ہے کہ اسے لوگوں کی ہمدردی حاصل ہو جائے گی۔تو یہ دنیا کا عام دستور ہے اور ہر ملک اور ہر شہر، ہر قصبہ، ہر گاؤں اور ہر محلہ میں اس کی نظیر میں ملتی ہیں۔مگر پھر جس طرح لوگ موت کو بھول جاتے ہیں ، اسی طرح اسے بھی بھول جاتے ہیں اور مجرموں کی حمایت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔تو وہ لوگ جو قانون کا احترام کرتے ہوئے کوشش کریں گے کہ اسلامی حکومت قائم ہو اور میرے کام میں میرے ساتھ تعاون کرنا چاہیں گے انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بدنامی ان کے حصہ میں بھی آئے گی مگر خدا تعالیٰ کے حضور وہ ضرور نیک نام ہوں گے۔دنیا کی نگاہ میں وہ بے شک ذلیل ترین وجود ظالم ، فاسق ، فاجر ، بدکار، جھوٹی سفارشیں قبول کرنے والے لوگوں پر جبر کرنے والے اور ایمان پر چھاپہ ڈالنے والے مشہور ہوں گے مگر خدا تعالیٰ کے حضور وہ بڑی عزتوں کے مالک ہوں گے کیونکہ خدا کہے گا کہ یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنی عزت اس لئے برباد کی کہ میری عزت دنیا میں قائم کریں۔پس اگر اسے اس کام کے عوض دنیا میں عزت نہ ملے تب بھی وہ ابدی زندگی کا وارث ہوگا۔اور اس کا نام آسمان پر ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا جائے گا اور وہی جو اس پر اعتراض کرنے والے ہوں گے اگلے جہان میں اس کے کی سامنے خادموں کے طور پر پیش ہوں گے۔پس یہ کام بہت مشکل ہے، یہ منزل بہت کٹھن ہے۔مگر اس میں