خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 480

خطبات محمود ۴۸۰ سال ۱۹۳۷ء کے برابر بھی سمجھتے ہیں؟ کتنے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک عظیم الشان تغیر ہے جس کو پیدا کرنے کیلئے مسیحی موعود د نیا میں آیا۔کتنے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسیح موعود دنیا میں اس لئے نہیں آیا کہ لوگ آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ، بیعت کرتے اور یہ سمجھتے کہ معاملہ ختم ہو گیا۔یہ رسمی چیز ایسی نہیں تھی جس کیلئے خدا کو اتنا عظیم الشان انسان بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوتی بلکہ خدا دنیا میں ایک تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے۔اتنا عظیم الشان تغییر کہ جسے دیکھ کر دشمن بھی یہ اقرار کرے کہ اس تغیر کیلئے جتنی بھی قربانی کی جاتی کم تھی۔لوگ کہتے ہی ہیں کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے پر ساری دنیا کا فر ہوگئی۔مگر میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ یہ بات وہ اُس وقت تک کہتے ہیں جب تک ہم دنیا میں وہ تغیر پیدا نہیں کر دیتے جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا گیا تھا۔اگر آج تم دنیا میں وہ تغیر پیدا کر دو، اگر آج تم دنیا میں وہ جنت پیدا کر و جس جنت کو پیدا کرنا خدا کا منشاء اور مسیح موعود کی بعثت کا مقصد ہے تو میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہی شخص جو آج تم سے اس لئے لڑتا ہے کہ تم دنیا کو کا فرقرار دیتے ہو، تم سے دو قدم آگے بڑھے گا اور کہے گا کہ ایسے عظیم الشان تغیر کے پیدا کرنے میں جس کے نتیجہ میں دنیا کو جنت حاصل ہوئی جو لوگ حائل ہوتے ہیں وہ یقیناً کافر بلکہ کفر ہیں۔پھر وہ لوگ جو تم پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ تم ہمیں جہنمی کہتے ہو، اگر تم اِس جنت کو دنیا میں قائم کر دو تو وہی لوگ جو آج تم سے اس لئے دست وگریبان ہورہے ہیں کہ تم انہیں جہنمی کہتے ہو خود کہیں گے کہ جو لوگ اس جنت کے قائم کرنے میں حائل تھے وہ جہنمی ہی نہیں بلکہ جہنم سے بھی اگر کوئی نچلا درجہ ہو تو وہ اس میں گرائے جانے کے قابل ہیں کیونکہ وہ اس جنت مانی سے لوگوں کو محروم کرتے تھے۔پس اگر لوگ انکار کرتے ہیں، لوگ اگر اعتراض کرتے ہیں، لوگ اگر جوش میں آتے ہیں، لوگ اگر بُرا مناتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے سامنے ابھی وہ جنت نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت نے دنیا میں پیدا کرنی ہے۔ان کے سامنے کچھ دعوے ہیں، کچھ باتیں ہیں ، کچھ لاف زنیاں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان باتوں کیلئے کسی کو کا فرکہنا جائز نہیں ، ان باتوں کیلئے کسی کو جہنمی کہنا جائز نہیں۔لیکن اگر تم یہ قیمتی چیز ان کے سامنے رکھ دو تو وہی لوگ جو اعتراض کر رہے ہیں کہیں گے بالکل ٹھیک ہے۔جو شخص مسیح موعود کا انکار کرتا ہے وہ کافر بلکہ کفر ہے۔اور جو ان کو نہیں مانتا وہ جسہمی ہی نہیں جہنم کے نچلے حصہ میں گرائے جانے کے قابل ہے۔