خطبات محمود (جلد 18) — Page 481
خطبات محمود ۴۸۱ سال ۱۹۳۷ء دنیا میں ایک شخص گزرا ہے جس کا نام لوگوں نے اُس کی دیوانگی کی وجہ سے مجنوں رکھ دیا ہے۔حالانکہ مجنوں اس کا نام نہیں تھا بلکہ اس کا نام قیس تھا۔لیکن بوجہ اس کے کہ وہ عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا لوگوں نے اس کا نام ہی مجنوں رکھ دیا۔حالانکہ مجنوں کے معنے عربی میں پاگل کے ہیں اور لوگ مجنوں اسی کی طرح کہتے تھے جس طرح کہ ہندوستانی دیوانوں کو پاگل کہتے ہیں۔اب اگر ہمارے ملک میں کوئی شخص لوگوں سے یہ کہے کہ پاگل کی یہ بات ہے، پاگل کی وہ بات ہے تو لوگ اس کی بات سن کر حیران ہوں گے اور کہیں گے کہ کونسے پاگل کی ؟ تم نام تو بتاتے نہیں۔لیکن قیس کو ایک دنیا پاگل پاگل کہہ کر بلاتی ہے اور کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ہر ایک فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ قیس کا ہی ذکر ہے۔کیونکہ اس کے متعلق یہ لفظ اتنی کثرت سے استعمال ہوا کہ اب وہ اس کا علم بن گیا ہے اور اس کا نام قرار پا گیا ہے۔غرض وہ ایک مجنون شخص تھا مگر دیکھو وہ مجنوں بھی اپنی بات میں کیسا ہو شیار تھا۔کہتے ہیں مجنوں ایک جگہ بیٹھا ہوا ایک کتے کو گود میں لئے پیار کر رہا تھا کہ پاس سے کوئی شخص گزرا اور اُس نے کہا میں! یہ کیا دیوانگی کی حرکت کر رہے ہو! ( آجکل کے انگریزوں اور میموں کی سمجھ میں شاید یہ بات نہ آئے کہ کتے کو پیار کرنے پر اس سے حیرت سے کیوں سوال کیا کیونکہ وہ خود کتوں کو پیار کرنے کے عادی ہیں اور ہمیشہ انہیں اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ان سے اگر کوئی کہے کہ کتے کو کیوں پیار کر رہے ہو تو وہ شاید اُلٹا معترض کو پاگل سمجھیں گے اور کہیں گے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا۔لیکن بہر حال ایشیائی ایشیائی ہے اور مغربی مغربی۔ایک ایشیائی جب بھی کسی ایسے شخص کو دیکھے گا جو کتے سے پیار کر رہا ہو وہ حیرت سے اسے دیکھے گا اور وہ اسے اس کام سے وکے گا۔اس بناء پر اُس شخص نے جب مجنوں کو دیکھا کہ وہ ایک کتے کو پیار کر رہا ہے تو اُس نے کہا قیس ! یہ کیا پا گلا نہ حرکت کر رہے ہو ) قیس یہ اعتراض سن کر حیرت سے بولا کیا کر رہا ہوں ؟ اُس نے کہا تم ایک کتنے سے پیار کر رہے ہو۔کہنے لگا کہتا؟ یہ تمہیں کتا نظر آتا ہو گا مگر مجھے تو یہ لیلیٰ کا کتا نظر آتا ہے۔گویا قیس کی کو حیرت ہوئی کہ وہ شخص اس قدر بیوقوف ہے کہ اُسے کتے اور لیلی کے کتے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔کتا بے شک ایک گندی چیز ہے مگر قیس کے نزدیک لیلی کا کتا بالکل اور چیز تھا وہ کسی صورت میں گندہ نہیں ہو سکتا تھا۔تو جب کسی شخص سے کسی کو حقیقی عشق ہوتا ہے اسے اپنے معشوق کی ہر چیز پیاری نظر آنے لگ رو جاتی ہے۔اب محمد اللہ بھی ایک انسان ہی تھے اور ویسے ہی انسان تھے جیسے مکہ کے اور بہت سے لوگ۔