خطبات محمود (جلد 18) — Page 439
خطبات محمود ۴۳۹ سال ۱۹۳۷ء کا پہلی آیتوں یا بعد کی آیتوں سے کیا تعلق ہے۔وہ سورۃ جس کی طرف میرا ذہن منتقل کیا گیا سورہ نور ہے اور وہ آیت جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ اس میں الوہیت ، نبوت اور خلافت کے تعلقات پر بحث کی گئی ہے اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے۔قرآن کریم کی تفہیم کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ میرے ساتھ کئی دفعہ ہوا ہے کہ ایک سیکنڈ میں بعض دفعہ ایک وسیع مضمون القاء کیا جاتا ہے اور الہام کے طور پر وہ میرے دل پر ایک نکتہ کی شکل میں نازل کیا جاتا ہے۔پھر وہ نکتہ نازل ہو کر یوں پھیل جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے بیسیوں مطالب میرے دل پر حاوی ہو جاتے ہیں اسی طرح اُس دن میرے ساتھ ہوا۔پہلے بھی اپنی بعض تقریروں میں میں ایسے نکات بیان کر چکا ہوں مثلاً السمُ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ے کی تغییر اور اس کے مطالب ایک سیکنڈ کے نی اندر میرے دل پر نازل ہوئے تھے اور میں نے کسی جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں بیان کر دیا تھا۔اسی طرح اور کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا۔اُس دن بھی نماز میں معا مجھے القاء کیا گیا کہ وہ آیت الله نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے اور اس کے ساتھ ایسے عظیم الشان مطالب کھولے گئے کی جو پہلے میرے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھے۔اگر چہ اس سارے مفہوم کو سمجھنے کیلئے اس ساری سورۃ کو ہی سمجھنا ضروری ہے۔کیونکہ ساری سورۃ کے مطالب کو آپس میں اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ ایک بات کی تکمیل دوسری بات کے بغیر نہیں ہو سکتی۔مگر چونکہ خطبہ میں اتنی لمبی تشریح نہیں کی جاسکتی اس لئے میں صرف اس آیت کو لے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ یہ مضمون کس عمدگی کے ساتھ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللَّهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ O فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُو وَالْآصَالِ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ إِقَامِ الصَّلوةَ وَإِيتَاءِ الزَّكورةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْاَبْصَارُ لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ TO یہ آیتیں سورة نور کی ہیں اور مجھے بتایا گیا ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خلافت، نبوت اور اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا لی