خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 438

خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۷ء دوڑتا ہوا آیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ تمہارا بیٹا ڈوب گیا ہے اور وہ اسی وقت اس کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا ہوا اور ہنڈیا اس نے چولہے پر ہی رہنے دی ہو۔تو چونکہ ایسی کئی صورتیں ممکن ہیں اس لئے باوجود ہنڈیا کی آواز سننے کے اور باوجود آگ کو جلتا دیکھنے کے ہم اگر یہ نتیجہ نکالیں کہ اندر کوئی شخص واقعہ میں موجود ہے تو ہم اس نتیجہ کے نکالنے میں غلطی پر ہو سکتے ہیں۔مگر جب حالات یہ نہ ہوں بلکہ جونہی ہم کسی کے دروازہ پر پہنچیں گھر کا مالک اندر سے باہر نکل آئے اور ہمیں کہے کہ آپ مسافر ہیں، تھکے ماندے آئے ہیں ، تھوڑی دیر میرے پاس آرام کیجئے۔تو اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہم ” ہونا چاہئے“ کی حد سے نکل کر ” ہے کی حد میں داخل ہو جاتے ہیں۔تو نبوت اور الہام سے خدا کا وجود ہے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ہے لیکن باقی دلیلوں سے ہم اس کے متعلق صرف ” ہونا چاہئے“ کی حد تک پہنچتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام بھی اسی مضمون کی تائید کرتا ہے۔مگر یہ خیال بھی مجھے اسی وقت آیا ہے پہلے ی نہیں آیا۔بہر حال رویا سے بیداری کے بعد میں غور کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس مضمون پر میں نے اور کیا کیا باتیں بیان کی تھیں مگر مجھے کوئی بات یاد نہ آئی۔لیکن اس رؤیا کا اثر میری طبیعت پر گہرا رہا اور کئی دفعہ مجھے یہ خیال آیا کہ وہ کون سی آیات تھیں جو ویا میں میں نے پڑھیں اور جن میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مگر قرآن کریم کی کوئی آیت میرے ذہن میں نہ آئی۔اس کے دوسرے یا تیسرے دن یعنی پیر یا منگل کو مجھے اب یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ کونسا دن تھا بہر حال ان میں سے کسی دن نماز ظہر یا عصر ( یہ بھی مجھے صحیح طور پر یاد نہیں ) میں پڑھا رہا تھا اور اُس وقت مجھے خواب کا خیال بھی نہیں تھا۔گویا اُس وقت وہ میرے ذہن سے بالکل اتری ہوئی تھی کہ جب میں نے رکوع کے بعد قیام کیا اور پھر سجدہ میں جانے کیلئے اللہ اکبر کہا تو جس وقت اوپر سے نیچے سجدہ کی طرف جانے لگا تو معا القاء کے طور پر میرے دل پر ایک آیت ی نازل ہوئی اور مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ آیت ہے جو اس مضمون کی حامل ہے جو خواب میں بتایا گیا ہے۔اور ان پھر بجلی کی طرح اس طرح وہ وسیع مضمون میرے سامنے آگیا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف وہ آیت بلکہ سورۃ کی سورۃ ہی حل ہوگئی۔اور اس کی ترتیب جو میں پہلے سمجھتا تھا اس کے علاوہ ایک ایسی ترتیب مجھ پر کھول دی گئی کہ مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ اس سورۃ میں ہر آیت اس طرح پروئی ہوئی ہے جس طرح ہار کے کی موتی پروئے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی آیت اس سورۃ میں ایسی نہ رہی جس کے متعلق یہ شبہ ہو سکے کہ اسر