خطبات محمود (جلد 18) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۷ء ہے اور یہ بات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کروں گا کہ وہ شخص جو قرآن کریم کو بے ترتیب، بے ربط اور بے جوڑ کتاب نہ کہتا ہو، وہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ اس مضمون کو مانے جو میں بیان کر رہا ہوں۔کیونکہ اس مضمون سے ان تمام آیات بلکہ تمام سورۃ کا آپس میں ایسا ربط قائم ہو جاتا ہے کہ اس کے بغیر ان آیات کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے۔مگر جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ اس کی مضمون کو خطبہ کی وجہ سے اختصار کے ساتھ بیان کروں گا اور چونکہ ان دنوں خلافت کا مسئلہ خصوصیت سے زیر بحث ہے، اس لئے ان آیات کی تشریح سے خلافت کا مسئلہ بھی آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے۔مَثَلُ نُورِهِ اور اس کے نور کی مثال گمشکوۃ ایک طاقچے کی سی ہے۔مشکوہ اُس طاقچے کو کہتے ہیں جو دیوار میں بناتی ہوا ہو اور جس کے دوسری طرف سوراخ نہ ہو۔دیوار میں دو طرح کے طاق بنائے جاتے ہیں۔ایک کھڑ کی کی طرح کا ہوتا ہے یعنی اُس کے آر پار سوراخ ہوتا ہے کیونکہ کھڑ کی کی غرض باہر دیکھنا ہوتی ہے۔یا مثلاً روشندان رکھنے کیلئے طاقچہ کی طرح خلاء رکھا جاتا ہے۔اس کے بھی آر پار سوراخ ہوتا ہے کیونکہ روشند ان سے یہ غرض ہوتی ہے کہ ہوا اور روشنی کی آمد ورفت رہے۔مگر پُرانی عمارتوں خصوصاً مساجد میں اس قسم کے طاقچے بنائے جایا کرتے تھے جن میں چراغ یا قرآن شریف رکھے جاتے تھے اور جن کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا تھا۔اس مسجد میں بھی بعض طاقچے بنے ہوئے ہیں بعض تو بڑے بڑے ہیں جو قرآن شریف رکھنے کیلئے ہیں اور ایک دو چھوٹے طاقچے ہیں جو لیمپ رکھنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔میں نے شاہی عمارتوں میں بھی دیکھا ہے کہ ان میں چھوٹے چھوٹے طاقچے بنے ہوئے ہیں جو دراصل دیا تی رکھنے کے لئے بنائے جایا کرتے تھے۔تو مشکوۃ اُس طاقچہ کو کہتے ہیں کہ جس کے دوسری طرف سوراخ نہیں ہوتا اور وہ لیمپ رکھنے کے کام آتا ہے۔تو فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال کیا ہے۔گمشکو اُس کے نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے۔فِيهَا مِصْبَاح۔جس میں ایک بھی رکھی ہوئی ہو۔الْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ۔اور وہ بنی ایک شیشہ یا چینی میں ہو۔اَلزُّجَاجَةُ كَانَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ اور وہ چمنی یا گلوب ایسے اعلیٰ درجہ کے شیشے کا بنا ہوا ہو اور ایسا روشن ہو کہ گویا وہ ایک ستارہ ہے جو چمک رہا ہے۔اس کے يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ میں اس کی تفصیل بتائی ہے۔مگر ابھی میں اس کی تفصیل کی طرف نہیں جاتا اور جو مضمون کا اصل حصہ ہے وہ میں بیان کرتا ہوں۔