خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 388

خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۷ء ہو جائے گی۔اس پر اس نے بلعم کی طرف اپنا آدمی بھیجا اور کہا کہ میرا موسیٰ سے مقابلہ ہے تم میرے لئے دعا کرو کہ اس مقابلہ میں میں کامیاب ہو جاؤں اور اگر میں جیت گیا تو میں تمہیں بہت کچھ انعام دوں گا۔مگر پیشتر اس کے کہ بادشاہ کا آدمی اس کے پاس پہنچتا بلعم کو خدا نے خواب میں بتلا دیا کہ دیکھنا موسیٰ میرا پیارا بندہ ہے ، اس کے خلاف بد دعا نہ کیجیئو۔جب بادشاہ کا پیغا مبر اس کے پاس پہنچا تو چونکہ بلعم یہ خواب دیکھ چکا تھا اس لئے اس نے انکار کر دیا اور کہا کہ موسیٰ کے خلاف میں بددعا نہیں کر سکتا۔مگر اس نے کی بیوی نے جس کے دل میں انعام کا لالچ پیدا ہو گیا تھا اُسے کہا دیکھو! خوابوں کی مختلف تعبیریں ہوتی کی ہیں۔تم انکار مت کرو اور اس کے ساتھ جاؤ اور موسیٰ کے خلاف بد دعا کرو ممکن ہے ہمارے بھی دن پھر جائیں اور ہماری تنگدستی دور ہو جائے۔چنانچہ وہ اپنی بیوی کی بات مان گیا اور گھر سے موسیٰ کے خلاف بددعا کرنے کیلئے نکلا۔لیکن جب وہ اس شخص کے ساتھ چلا تو تین دفعہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نے سامنے کھڑے ہو کر اسے روکا اور کہا کہ موسیٰ کے خلاف بد دعامت کر مگر وہ پھر بھی اپنی بیوی کے کہنے کے مطابق چلتا چلا گیا۔یہاں تک کہ ایک الگ مقام میں اس نے بادشاہ کے حکم کے ماتحت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بددعا کرنی شروع کر دی۔ابھی وہ دعا کر ہی رہا تھا کہ معاً اُس پر کشفی حالت طاری ہوئی اور اس نے دیکھا کہ ایک کبوتری اُس کے منہ سے نکل کر اُڑی جارہی ہے۔اس نے ایک فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ خدا کے فرشتے نے جواب دیا یہ تیرا ایمان ہے جو اب تیرے اندر سے نکل کر اُڑا جا رہا ہے۔اب تو ساری عمر بیٹھا ریاضتیں کرتارہ خدا نے تجھے جو انعام دیا تھا وہ اب اس نے واپس لے لیا ہے اور تیری تمام ولایت اس نے چھین لی ہے۔اب دیکھو ایک شخص صاحب کشف ہے، صاحب وحی ہے ، صاحب الہام ہے ، خدا کا مقرب ہے اور اتنا مقرب ہے کہ اس کی کوئی دعا رد نہیں کی جاتی مگر جب وہ اس شخص کا مقابلہ کرتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے نظام کے قائم کرنے کیلئے کھڑا کیا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی ساری عبادتوں کو ضائع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیری دعا چونکہ کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ میرے خلاف ہے اس لئے ساری عمر کی عبادتوں کے نتیجہ میں ہماری طرف سے جو تجھے انعام ملا تھا وہ ہم واپس لیتے ہیں۔تو معمولی مقام تو ایک طرف رہے بڑے بڑے مقام پر پہنچ کر بھی انسان بعض دفعہ ٹھو کر کھا جاتا اور ایسی بُری طرح گرتا ہے کہ اس کا ایمان بالکل ضائع ہو جاتا ہے۔