خطبات محمود (جلد 18) — Page 387
خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۷ء بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کے دل میں بڑا ایمان تھا، اسے سلسلہ سے بڑی محبت تھی ، پھر اسے کیوں ٹھوکر لگی؟ اس کا جواب یہی ہے کہ اس کی محبت اور اس کا اخلاص خدا کیلئے نہیں تھا بلکہ کسی کمزوری یا الہی تصرف کے ماتحت تھا۔اس لئے ایسے انسان با وجود محبت میں ترقی کر جانے کے پھر بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔تو ای انسان کے متعلق کسی مقام پر بھی یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اب ٹھوکر سے محفوظ ہے۔سوائے اس کے کہ وہ اس اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے جہاں خدا کی طرف سے یہ کہ دیا جائے کہ اب اسے ٹھو کر نہیں لگے گی۔غرض اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ میں یہ دونوں مضمون بیان کر دیئے ہیں۔یعنی یہ کہ ایک طرف تمہارے لئے ہر قسم کی ترقیات مقدر ہیں اور تم اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات حاصل کر سکتے ہو۔مگر دوسری طرف یہ یاد رکھو کہ جوں جوں انعامات بڑھتے جائیں اتنا ہی انسان کے گرنے کا بھی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔کسی شاعر نے کہا ہے گرتے ہیں شہسوار ہی میداں میں مثل برق وہ طفل کیا کرے گا جو کھٹنوں کے بل چلے کہ جو شہسوار ہو وہی میدانِ جنگ میں گرتا ہے۔وہ بچہ جو گھٹنوں کے بل چل رہا ہو اس نے کیا کرنا ہے۔اسی طرح انسان جتنا زیادہ اونچا چڑھتا اور روحانی کمالات حاصل کرتا چلا جاتا ہے، اتنا ہی اس کے گرنے کا احتمال بھی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔یہودی کتب میں اور ہماری روایات کی کتب میں ایک شخص بلعم باعور کا حال لکھا ہے کہ اس نے بڑی عبادتیں کیں ، بڑی عبادتیں کیں ، بڑی عبادتیں کیں یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہو گیا اور اس کی دعائیں نہایت کثرت سے قبول ہونے لگیں۔حتی کہ لوگ جب اُس کے پاس جاتے اور دعا کرنے کیلئے کہتے تو اس یقین کے ساتھ واپس آتے کہ اب یہ دعا ضرور قبول ہو جائے گی۔ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے ملک میں سے گزرے تو اس ملک کا جو بادشاہ تھا اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا اور آپ سے لڑائی شروع کر دی۔مگر جب اُس نے دیکھا کہ میرا پلہ کمزور ہے اور میں موسیٰ کے لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس نے اپنے مشیر کاروں سے مشورہ لیا۔انہوں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ بلعم کو بلا ؤ اور اس سے دعا کراؤ۔اگر وہ موسیٰ کے خلاف بددعا کرے گا تو موسیٰ کے لشکر کو ضرور شکست