خطبات محمود (جلد 18) — Page 389
خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۷ء اب تک ہماری جماعت میں سے جن لوگوں کو ٹھوکریں لگیں اور وہ مرتد ہوئے ، ان میں سے کوئی ایسا شخص نہیں جو ایسا صاحب کشف اور صاحب الہام ہو کہ اس کے صاحب کشوف اور صاحب الہام ہونے کا جماعت کے اکثر حصہ کو علم ہو اور انہیں اس کے کشوف اور اس کے الہامات کے سچا ہونے کا تجربہ ہو۔ایسے تو کئی ہیں جن کے دماغ میں خرابی پیدا ہوگئی اور وہ کئی قسم کے دعوے کرنے لگے مگر ان کا یہاں ذکر نہیں۔ان کے بگاڑ کا باعث ان کے کشوف اور الہام ہی ہوئے ہیں بلکہ ان کے دماغ کا بگاڑ ان کے کشوف والہام کا موجب ہوا ہے۔مگر وہ لوگ جن کے کشوف اور الہامات کی جماعت گواہ ہو اور ہزاروں آدمیوں کو اس بات کا تجربہ ہو کہ انہیں خدا تعالیٰ سے خاص تعلق ہے، ایسا کوئی آدمی ہماری جماعت سے آج تک بھی مرتد نہیں ہوا۔ظاہری علم بالکل اور چیز ہے اگر ظاہری علم پر ہی فضیلت اور بزرگی کی بنیاد رکھی جائے تو نَعُوذُ بِاللهِ دنیا کے سارے انبیاء کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔کیونکہ ان کا مقابلہ کرنے والے علماء ہی ہوئے ہیں۔رسول کریم ہے کے مقابلہ میں بھی عرب کے کا بہن اور علماء اُٹھے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا کی بھی اس زمانہ کے فقیہیوں اور فریسیوں نے مقابلہ کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسے ہی لوگ آپ کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی انہی لوگوں نے مقابلہ کیا جو ای اپنے آپ کو ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑا عالم سمجھا کرتے تھے۔یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نہایت حقارت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو منشی غلام احمد لکھا کرتے تھے۔گویا آپ نَعُوذُ بِاللَّهِ صرف منشی ہیں کہ دو چار سطریں لکھ لیتے ہیں، عالم نہیں ہیں اور وہ اس بات پر بہت خوش ہوتے کہ میں نے انہیں منشی“ لکھا ہے۔مجھے یاد ہے میں اُس وقت چھوٹا بچہ تھا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی نے کسی مجلس میں بیان کیا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے میری نسبت تو یہ لکھا ہے کہ یہ مولوی ہے مگر حضرت مسیح موعود کے متعلق اس نے یہ لکھا ہے کہ وہ منشی ہیں۔مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بری معلوم ہوئی تھی اور آج بھی بُری محسوس ہوتی ہے۔ان کے دل میں شاید مولویت کی کوئی قدر ہو تو ہو ہمیں تو کوئی مولوی کہہ دے تو چھ آ جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ مولوی کا لفظ بُرا ہے۔مولوی ایک عربی کا لفظ ہے اور یہ مولائی سے بنا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا مولا ، ہمارا سردار اور ہمارا اُستاد مگر اب کی مولوی کے لفظ کا استعمال جن لوگوں پر شروع ہو گیا ہے اُن کو دیکھتے ہوئے اس بات سے شرم آتی ہے کہ