خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 234

خطبات محمود ۲۳۴ سال ۱۹۳۷ء ہے مگر یہ تین شخص اس تبلیغ کے ثواب میں شریک نہیں۔پس جو ثواب جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب انسان جماعت کے ساتھ شامل ہو۔لیکن جب کوئی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے تو وہ ان نیکیوں اور ثواب کے ان تمام کاموں سے محروم ہو جاتا ہے۔اور اس طرح اس کے اسلام میں بھی رخنہ واقع ہو جاتا ہے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شبُرًا فَلَيْسَ مِنَّا جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے الگ ہوا اُس کے اسلام میں رخنہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہمارا نہیں رہتا۔اور جب رسول کریم ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ہمارا نہیں رہتا تو ہمارے سے مراد آپ کی یقیناً اسلام ہے یعنی اس کے نتیجہ میں اس کے اسلام میں بھی رخنہ پڑ جاتا ہے۔الله مجھے افسوس ہے کہ مصری صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جو قدم اٹھایا تھا وہ ایسا اہم تھا کہ اس کے بعد چاہئے تھا وہ خشیت اللہ سے لبریز ہو جاتے ، توبہ و استغفار میں لگ جاتے ، دعاؤں سے کام لیتے اور اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے اس کی مدد چاہتے۔مگر مجھے تعجب اور افسوس ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں خشیت اللہ پیدا ہوتی وہ ایسے کاموں میں لگ گئے جو عام نیکی اور تقویٰ کے بھی خلاف ہیں اور اس قسم کے غلط واقعات شائع کر رہے ہیں کہ جسے کوئی ایماندار شخص جائز نہیں سمجھ سکتا۔چنانچہ جماعت اور اس کے نظام پر وہ بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں اور جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ اس کا کیا کی ثبوت ہے تو وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے۔مثلاً شروع میں ہی انہوں نے کہہ دیا کہ جماعت کے اندر ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے جو بہت سے لوگوں کو دہریت کی طرف لے جاچکا ہے اور بیعتوں کو لے کی جانے والا ہے۔اب یہ کتنا بڑا اتہام ہے جو جماعت احمدیہ پر لگایا گیا۔دہریہ کے معنے یہ ہیں کہ ایسان شخص جو خدا تعالیٰ کی ذات کا منکر ہے۔اگر مصری صاحب کے منہ پر انہیں جا کر کوئی شخص بے ایمان کہہ دے تو وہ شور مچادیں گے یا نہیں ؟ اگر مصری صاحب کو کوئی منافق کہہ دے تو وہ کہیں گے یا نہیں کہ مجھے گالیاں دی جارہی ہیں۔اگر مصری صاحب کے متعلق کوئی شخص کہہ دے کہ وہ وفات مسیح کے قائل نہیں رہے تو وہ اس شور سے آسمان سر پر اٹھا لیں گے کہ نہیں کہ دیکھو یہ جماعت تقویٰ سے کس قدر گر گئی۔مجھے کہا جاتا ہے کہ میں وفات مسیح کا قائل نہیں حالانکہ میں قائل ہوں۔اسی طرح اگر کوئی کہہ دے کہ مصری صاحب نماز پڑھنے کے قائل نہیں تو وہ جھٹ شور مچا دیں گے اور کہیں گے دیکھا یہ کیسے بُرے لوگ ہیں مجھ پر سراسر جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نمازوں کا قائل نہیں رہا حالانکہ میں قائل ہوں۔غرض جو جوانی "