خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 180

خطبات محمود ۱۸۰ سال ۱۹۳۷ء روپیہ کی چوری کے الزام میں ماخوذ کرا دیا اور وہ قید ہو گیا اور احمدیت بھی اس کے ہاتھ سے جاتی رہی ۔ تو میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں تا آئندہ ہماری جماعت میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں ۔ اس امر کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ لڑکی کی رضا مندی محض کوئی چیز نہیں ۔ جولڑ کی اپنے ولی کی رضامندی کے بغیر کسی خاص شخص پر نظر رکھ کر اُس سے شادی کر لیتی ہے، اسی کا نام ادھالا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی غیر احمدی لڑکی اس طرح احمدیوں کے پاس آجائے اور وہ کسی خاص آدمی کو مد نظر رکھ کر اس سے شادی کرنے کیلئے آئے تو ہماری جماعت کے دوستوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی شادی ہرگز نہ ہو ، تا ہماری جماعت میں ادھالے کی رسم نہ جاری ہو ۔ میں نے یہ مسئلہ اس لئے بتایا ہے تا کہ وہ لوگ جو اس فعل کے ذمہ دار ہیں اور زمیندار بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ جہاں جہاں ایسے واقعات رونما ہوں وہاں ان لوگوں سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں ہوگی جو ولی کی رضامندی کے بغیر کسی لڑکی سے نکاح کر لیں۔ بلکہ ہماری ہمدردی ان لوگوں سے ہوگی جن کی لڑکیوں سے ایسا سلوک کیا گیا ۔ اگر ہماری جماعت نے اس طریق کار کو اختیار کیا تو وہ اخلاق قائم کرنے والے نہیں بلکہ اخلاق کو بگاڑنے والے ہوں گے ۔ حالانکہ احمدیت اخلاق سنوارنے کیلئے آئی ہے اور میں جیسا کہ بتا چکا ہوں اس قسم کے واقعات کی ذمہ واری بہت حد تک محلوں کے معہدے داروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مساجد کے اجتماع سے صحیح فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ اگر مساجد میں ہمیشہ وعظ ہوتے رہیں لوگوں کو بتایا جائے کہ شادی بیاہ کے کیا مسائل ہیں ۔ کونسی رسوم منع ہیں ۔ کون سے اخلاق احمدیت قائم کرنا چاہتی ہے اور کونسی بُری باتیں وہ دنیا سے دور کرنا چاہتی ہے۔ تو محلے والے ان امور سے آگاہ ہوتے اور گھر والے کبھی یہ شور نہ مچاتے کہ جب لڑکی راضی ہے تو پھر اس نکاح میں کیا حرج ہے۔ ان بیچاروں کو چونکہ یہ مسئلہ معلوم ہی نہ تھا۔ اس لئے وہ اس کی تائید کرنے لگ گئے ۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے مسلمان کسی کے گھر سے سور کا گوشت چرا کر کھالے۔ تو وہ کہے میں نے سور کا گوشت چرا کر نہیں کھا یا مالک مکان کی اجازت لے کر کھایا ہے پھر مجھ پر کیوں ناراض ہوتے ہو۔ حالانکہ مسلمانوں کا اعتراض اُس پر یہی نہیں ہو گا کہ تم نے سور کا گوشت چرا کر کھایا بلکہ ان کا اعتراض یہ بھی ہوگا کہ تم نے کھایا کیوں ۔ اسی واقعہ کے متعلق میں نے دیکھا ہے کئی لوگ شور مچا رہے ہیں کہ جی اس کی مرضی تھی ۔ حالانکہ شریعت یہی کہتی ہے کہ اگر ولی کی اجازت نہ ہو تو لڑکی کی ایک مرضی نہیں ، ہزار مرضی نہیں ، لاکھ مرضی ہو تب بھی کسی شخص کا اسے اپنے نکاح میں لانا نکاح نہیں بلکہ