خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 179

خطبات محمود ۱۷۹ سال ۱۹۳۷ء وہ قانون بہر حال مقدم ہے۔تم نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا استاد مانا ہے۔اب یہ بھی کیا ہو ا تم منہ سے تو کہتے ہو لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مَحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ مگر اعتقاد یہ رکھتے ہو کہ محمد علیہ نے جو بات بھی کہی ہے ه نَعُوذُ بِاللہ غلط ہے۔نمازوں کے متعلق حکم دیتے ہیں تو تم نمازیں نہیں پڑھتے ، نکاحوں کے متعلق حکم دیتے ہیں کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہوتا تو تم یہ بات نہیں مانتے لیکن زبان سے دن رات کہتے جاتے ہو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَحَمَّدُ رَّسُولُ اللهِ۔جب انسان سچے دل سے کوئی بات کہتا ہے تو اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہے لیکن جب عمل کی نیت نہ ہو تو منہ سے کچھ اور کہتا ہے اور عمل سے کچھ اور ظاہر کرتا ہے۔پس ج میں ان تمام رقعے لکھنے والوں کو جو بار بار لکھتے ہیں کہ لڑکی کی مرضی اسی جگہ تھی ، عَلَى الْإِعْلان سمجھا دیتا ہوں کہ ولی کی مرضی کے بغیر ہماری شریعت کوئی نکاح تسلیم نہیں کرتی۔اور اگر ایسا کوئی نکاح ہو تو وہ ی نکاح نہیں ادھالا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ میرے یہ کہنے کے بعد اب وہ لوگ سمجھ گئے ہوں گے لیکن اگر اب بھی نہ سمجھیں تو میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں جو اس قسم کی عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں بلکہ ہماری ہمدردی ان غیر احمد یوں اور ان سکھوں سے ہوگی جن کی بیٹیوں کو وہ اپنے گھر میں لے آتے ہیں چاہے وہ لڑکیاں راضی ہی کیوں نہ ہوں۔میں نے دیکھا ہے اس قسم کے نقائص کی وجہ سے بعض دفعہ عورت کو یہ سکھا دیا جاتا ہے کہ تم کہہ دو میں احمدی ہوں اور فلاں شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔تین چار سال ہوئے امرتسر سے ایک لڑکی یہاں آئی اور کہنے لگی میں احمدی ہونا چاہتی ہوں۔میرا باپ سلسلہ کا شدید مخالف ہے اور میں برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ سلسلہ کو گالیاں دے۔اب میں وہاں سے آگئی ہوں آپ فلاں شخص سے میری شادی کرا دیں میں نے کہا اگر تم سچ سچ احمدی ہوئی ہو تو پہلے تم یہ اقرار کرو کہ تم اس شخص سے شادی نہیں کرو گی بلکہ کسی اور شریف انسان سے شادی کرو گی۔ورنہ اگر کسی خاص شخص کو تم معین کرتی ہو تو اس سے شادی کرنے کے معانی یہ ہیں کہ تم خدا اور اس کے رسول کے لئے احمدی نہیں ہوئی بلکہ اس شخص کے لئے احمدی بنی ہو۔وہ کہنے لگی کہ سچی بات تو یہی ہے کہ میں اسی کی خاطر احمدی ہوئی ہوں۔میں نے کہا تو پھر میں اس شخص سے تمہاری شادی نہیں کر سکتا۔آخر وہ یہاں سے چلی گئی اور اسی شخص کے پاس جا پہنچی۔پھر اس سے اس نے شادی بھی کر لی لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ اس مرد کا ایمان بھی خراب ہوا اور چوری کے الزام میں وہ ی بعد میں قید بھی ہو گیا۔گویا نقد بہ نقد سزا اُسے مل گئی۔اس نے دوسرے کی لڑکی چرائی تھی خدا نے اُسے