خطبات محمود (جلد 18) — Page 178
خطبات محمود KA سال ۱۹۳۷ء پس میں پھر اس بات کو کھول کر خطبہ میں بیان کر دیتا ہوں کہ ولی کی رضامندی کے بغیر لڑکی کی رضا مندی کوئی چیز نہیں۔بے شک گورنمنٹ کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بالغ لڑکی جہاں چاہے شادی کرلے لیکن گورنمنٹ کا قانون سود لینا بھی جائز سمجھتا ہے۔گورنمنٹ کا قانون سؤ رکھانا بھی درست قرار دیتا ہے۔گورنمنٹ کا قانون شراب پینا بھی درست سمجھتا ہے۔مگر کیا اس وجہ سے گورنمنٹ کے قانون میں اس کی اجازت ہے ہمارے لئے سود لینا یاسؤ رکھانا یا شراب پینا جائز ہے؟ پھر صرف اس کی وجہ سے کہ لڑ کی مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے چکی ہے یہ نکاح کس طرح جائز سمجھا جاسکتا ہے۔بیشک اس فعل پر گورنمنٹ انہیں قید نہیں کرے گی۔لیکن اگر وہ اس فعل سے باز نہ آئے اور انہوں نے بچی تو بہ نہ کی تو یا درکھیں ان کے ہاں بھی بیٹیاں ہونے والی ہیں اور خدا کا قانون دنیا میں ایسا جاری ہے کہ اگر سچی تو بہ نہ کی جائے تو کوئی گناہ بدلہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر اگلی نسل سے بدلہ نہ لیا جائے۔میں سمجھتا ہوں جن کی بیٹی بھاگی ہے دو چار پشت پہلے انہوں بھی کسی کی بیٹی کو بھگایا ہو گا اور اب جو اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں انہوں نے توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے انہیں بھی بدلہ مل جائے گا۔پس بہتر ہے کہ وہ تو بہ کریں اور اپنے اس فعل سے باز آئیں۔مگر تو بہ یہ نہیں کہ تم کسی کا روپیہ اُٹھا لو اور اُسے گھر میں رکھ لو، کسی کی بھینس چرالو اور اسے گھر میں رکھ کر صبح و شام اس کا دودھ پیؤ۔کسی کے گھوڑے پر الو اور دن رات ان پر سواری کرو اور منہ سے اَسْتَغْفِرُ اللهَ اَسْتَغْفِرُ الله کہتے پھر وہ تمہارا لی اَسْتَغْفِرُ الله کہنا بالکل جھوٹا اور بناوٹی ہو گا۔اور خدا اُس وقت تک تمہاری توبہ قبول نہیں کرے گا جب تک تم وہ روپے، وہ بھینس اور وہ گھوڑے ان کے مالکوں کے حوالے نہ کرو۔ہاں جب تم یہ چیز میں اصل مالکوں کو دے دیتے ہوا اور پھر اَسْتَغْفِرُ الله کہتے ہو تو اس حالت میں تمہارا اَسْتَغْفِرُ الله کہنا قبول ہوسکتا ہے ورنہ اور کسی صورت میں تو بہ قبول نہیں ہوسکتی۔اسی طرح یہ لوگ جس عورت کو نکال کر لائے ہیں اسے واپس کر دیں اور سچی توبہ کریں تب تو اللہ تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے گا۔ورنہ یا درکھیں کسی نہ کسی رنگ میں بدلہ انہیں مل کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں ذلت پہنچا کر چھوڑے گا۔میں اس موقع پر دوسروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ جب وہ کسی سے معاملہ کیا کریں تو دیکھ لیا کریں کہ اگر ان کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہو تو وہ رنج محسوس کریں گے یا خوشی۔اگر تمہاری فطرت اپنے متعلق اس قسم کے واقعات کو ناجی پسند کرے تو دوسروں کے ساتھ بھی ویسا معاملہ نہ کرو اور یہ یاد رکھو کہ تمہاری اپنی خواہشات پر خدا تعالیٰ کا