خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 177

خطبات محمود ۱۷۷ سال ۱۹۳۷ء قابو نہیں آئے گا کسی اور طرح اسے سمجھانا چاہئے۔چنانچہ آپ نے اُس سے ادھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں اور پوچھا تم چوری کس طرح کرتے ہو۔کہنے لگا چوری کیلئے پانچ آدمی ہونے ضروری ہیں۔ایک تو گھر کا راز دان ہوتا ہے وہ بتاتا ہے کہ فلاں فلاں جگہ سے راستہ ہے۔فلاں جگہ اتنا مال پڑا ہے۔گھری والے باہر سوتے ہیں یا اندر ہوشیار رہتے ہیں یا غافل۔پھر ایک سیندھ لگانے کا مشاق ہوتا ہے۔ایک کی آدمی اندر جاتا ہے ایک دُور کھڑا پہرہ دیتا رہتا ہے اور ایک سنار ہوتا ہے۔جب ہم زیور چرا کر لاتے ہیں تو اس کو سنار کے پاس لے جاتے ہیں وہ فوراً گلا دیتا ہے اور پھر کوئی پہچان بھی نہیں سکتا کہ کس کا زیور ہے۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے اس پر اُسے کہا۔اگر وہ سنا ر کچھ سونا رکھ لے تو تم کیا کرو؟ تم کوئی نالش تو کر نہیں سکتے۔وہ بڑے غصے سے کہنے لگا کیا وہ اتنا بے ایمان ہو جائے گا کہ ہم اُسے سونا دیں اور وہ رکھ لے؟ میں نے کہا تم ابھی تو یہ کہ رہے تھے کہ اصل حلال روزی ہماری ہی ہے اور ابھی سنار کو سونا چرانے پر تم بے ایمان بتا رہے ہو، یہ کیا بات ہے۔تو اصل بات یہ ہے جب دوسروں کے مال کی چوری ہو تو انسان کی کہتا ہے یہ چوری نہیں کسب ہے اور جب اپنے مال کا سوال آجائے تو کہنے لگ جاتا ہے کیا کوئی اتنا بھی بے ایمان ہو گیا ہے کہ ہمارا مال چرا لے۔تو شریعت نے اچھے بُرے فعل کے پہچانے کا یہ ایک نہایت ہی آسان گر بتا دیا ہے۔وہ کہتی ہے جب تم کسی سے کوئی معاملہ کرو تو یہ سوچ لیا کرو کہ اگر وہی معاملہ تم سے کیا جائے تو تم خوش ہو یا ناراض۔اسی طرح سوچ لو اگر تمہاری لڑکیاں کسی جگہ راضی ہوں اور تم ناراضی اور پھر وہ تمہاری رضامندی کے خلاف گھر سے باہر جا کر کسی سے نکاح پڑھوا لیں تو کیا تم ہنستے ہو۔لوگوں سے یہ ذکر کرو گے کہ آج ہماری لڑکی اپنی مرضی سے فلاں مرد کے ساتھ نکل گئی یا شرم محسوس کرو گے ؟ اگر تم اپنے متعلق اس قسم کے واقعات کو پسند کرو اور کہو کہ خدا کرے کہ ہماری لڑکیوں کے ساتھ بھی یہ واقعات پیش آئیں تب تو میں مان لوں گا کہ تمہاری فطرت اسے جائز قرار دیتی ہے لیکن اگر تم اس کیلئے تیار نہ ہوتو سمجھ لو کہ محمد ﷺ نے جو تعلیم دی ہے وہی پاک اور بچی تعلیم ہے اور اگر ہم اس بات کی اجازت دے دیں کہ جہاں لڑکی کا جی چاہے وہاں چلی جائے تو قوم کے اخلاق تباہ ہو جائیں۔حالانکہ ہمارا قیام لڑکیاں لینے کیلئے نہیں بلکہ روحانیت قائم کرنے کے لئے ہے۔اگر اس کے نتیجہ میں دس ہزار آدمی بھی ہم میں سے مرتد ہوتا ہو تو اس کا برداشت کرنا ہمارے لئے اس بات سے زیادہ آسان ہے کہ ہم قومی اخلاق کی تباہ کر کے دس بیس ہزار لڑکیاں لے آئیں۔