خطبات محمود (جلد 18) — Page 137
خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۷ء ہے اور اس سے بہتر علاج اس کا کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام میں داخل کر دے لیکن اسلام میں داخل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ۔ مجھے ایک دفعہ ایک یہودی نے چٹھی لکھی کہ میں وہ شخص تھا کہ شاید ہی کسی کے دل میں میرے صلى الله صلى الله صلى الله دل سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق دشمنی ہو بلکہ رسول کریم ﷺ کا نام سنتے ہی مجھے اشتعال پیدا ہو جاتا تھا۔ لیکن آپ کے مبلغوں سے اسلام کی خوبیاں سن کر اب میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میں رات کو نہیں ہوتا جب تک رسول کریم ﷺ پر درود نہ بھیج لوں ۔ بھلا ہماری گالیوں سے سلسلہ کی کیا خدمت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم دعا کریں کہ اے خدا! تیرا وعدہ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِعِينَ سچا ہے تو آپ اس کا علاج کر اور اس وعدہ پر اعتماد رکھ کر چُپ رہیں تو خدا خود ہی انتظام کرے گا ۔ اور اگر تم نے خود اس میں دخل دینا شروع کر دیا تو تم بیعت میں رخنہ ڈالنے والے، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے وعدہ کو پس پشت ڈالنے والے اور سلسلہ کو بدنام کرنے والے ہو گے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امام کی اطاعت کرو اور امام کے پیچھے ہو کر لڑو۔ پس لڑائی کا اعلان کرنا امام کا کام ہے تمہاری غرض محض اس کی اطاعت ہے۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اس تعلیم کو خود ہی رڈ کرنے والے ٹھہرو گے۔ دنیا میں بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے عظیم الشان لڑائیاں ہو جاتی ہیں ۔ جیسے آسٹریا کے شہزادہ کے قتل سے عظیم الشان جنگ ہوئی جس میں دو کروڑ سے زیادہ انسان قتل ہوئے ۔ پس امام جب چاہے اعلانِ جنگ کرے جب چاہے چُپ رہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ اس کے پیچھے رہیں اور خود بخود کوئی حرکت نہ کریں ۔ صلى الله پس میں پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوگی ۔ میں مصلحت کو سمجھتا ہوں ۔ ہر بات کی دلیل بیان کرنا امام کیلئے ضروری نہیں ۔ جرنیل اور کمانڈر کے ہاتھ میں سارا راز ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں اور کس طرح حملہ کیا جائے ۔ اگر وہ راز کھول دے تو دشمن اس کا توڑ سوچ لے اور ساری سکیم باطل ہو جائے ۔ اگر کوئی شخص بچے طور پر بیعت کرتا ہے اور اتباع کا اقرار کرتا ہے تو اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے اعتراض نہیں کرنا چاہئے ورنہ بیعت چھوڑ دے کیونکہ وہ منافق ہے۔ پس گالیوں کا جواب نہیں دینا چاہئے ورنہ آہستہ آہستہ بڑی لڑائی شروع ہو جائے گی اور پھر امام بھی مجبور ہوگا کہ اس میں شامل ہو اور اپنی طاقت ایسی جگہ خرچ کرے جہاں وہ مناسب