خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 138

خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۷ء نہیں سمجھتا۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست ان باتوں کی اہمیت کو سمجھیں گے۔کوئی مومن اس قدر بیوقوف نہیں ہوتا کہ اس کے غصے سے ساری جماعت کو نقصان پہنچے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھیں اور امام کے حکم کے منتظر ر ہیں۔قرآن کریم میں جب لڑائی کا حکم آیا تو بعض لوگوں نے لڑنے سے انکار کر دیا اور کہا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنَكُمْ کہ اگر ہم جانتے کہ یہ لڑائی ہے تو ہم ضرور شامل ہوتے۔مگر یہ تو خود کشی ہے اور یہ وہی لوگ تھے جو لڑائی کیلئے زیادہ شور مچاتے تھے۔پس زیادہ شور مچانا بسا اوقات نفاق کی علامت ہوتی ہے۔ایسے لوگ جماعت کو لڑائی میں ڈال کر آپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور بعض بالکل خاموش رہنے والے بعض دفعہ زیادہ مومن اور بہادر ہوتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق خاموش طبیعت تھے لیکن لڑائی میں سب سے زیادہ خطرناک جگہ پر صلى الله موجود رہتے تھے یعنی رسول کریم ہے کے ساتھ۔کیونکہ لڑائی میں سب سے زیادہ خطرناک جگہ وہی ہوتی کی تھی جہاں رسول کریم ﷺ ہوتے تھے۔کیونکہ دشمن کا سارا زور وہیں ہوتا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ یوں تو صلى الله یہ بڑھا بہت نرم دل ہے لیکن لڑائی میں سب سے آگے رہتا ہے۔پس خاموشی سے اخلاص میں فرق نہیں پڑتا بلکہ ممکن ہے جو زیادہ خاموش رہنے والا ہے خدا کے نزدیک زیادہ مخلص ہو اور وہ جو زیادہ شور مچانے کی والا ہے وہ منافق ہو۔کیونکہ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ مومن کون ہے اور منافق کون ہے۔الفضل ۱۳ مئی ۱۹۳۷ ء ) بخاری كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به الحجر: ۹۵ الحجر ۹۶ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۳۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء دم ال عمران (۱۶۸