خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 69

خطبات محمود ۶۹ سال ۱۹۳۷ء اتنے میں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے سامنے کئے جانے کا حکم دیا اور اُس پر نگاہ ڈال کر فرمایا کہ اس شخص کو لے جاؤ اور جنت میں داخل کر دو۔پھر ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے آگے لانے کا حکم دیا جو بظاہر نہایت حسین اور خوبصورت نوجوان تھا۔جب وہ سامنے لایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی طرف دیکھا مگر اُس سے کوئی چی سوال نہیں کیا۔گویا اس کی نظروں میں ہی سارے سوال ہو گئے۔میں نے دیکھا کہ اس کا گوشت ، اس کی ہڈیاں اور اس کے تمام عضلے کھال کے اندر یوں نرم ہونے شروع ہوئے جیسے کوئی موم وغیرہ پگھل کر کی سیال ہو جاتی ہے۔ہم نے محسوس کیا کہ اُس کی کھال کے نیچے کی ہر چیز پیپ بن گئی ہے اور وہ سر سے پیر تک پیپ کا تھیلا بن کر رہ گیا ہے۔تب خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور جہنم میں داخل کر دو۔اُس وقت میں نے ایک نہایت عجیب رحمت کا نظارہ دیکھا۔فرشتوں نے جس وقت جنتی کو جنت کی میں داخل کیا تو دروازے کھول کر کیا اور جنت کی ہوائیں باہر والوں کو لگیں لیکن جس وقت دوزخی کوکی دوزخ میں داخل کیا تو دروازے کو نہایت تھوڑا سا کھولا اور آگے خود کھڑے ہو گئے اور اسے دھکیل کر اندر کر کے دروازہ فوراً ہی بند کر دیا تا وہاں کی مسموم ہوا ئیں دوسروں کو نہ چھوئیں۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کھڑا ہو گیا اور فرمایا کہ اس وقت بس اتنا ہی حساب لینا تھا۔ابھی حشر کا دن نہیں آیا مگر شاید تم میں سے بعض لوگ اپنا انجام دیکھنا چاہتے ہوں۔وہ اپنی پیٹھ کی طرف دیکھیں جس کی پیٹھ کی طرف کی کی دیوار کی کچھ اینٹیں پکی ہوئی ہوں گی وہ جنتی ہے اور جس کی کچی ہوں گی وہ دوزخی ہے۔یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ چلا گیا اور ہم لوگ جو وہاں بیٹھے تھے خاموشی سے بیٹھے رہے۔کسی کو یہ جرات نہ تھی کہ مُڑ کر پیٹھ کی طرف دیکھے۔ہم بیٹھے رہے اور بیٹھے رہے اور بیٹھے رہے اور وقت گزرتا گیا ، گزرتا گیا اور گزرتا گیا۔جب ایک کافی عرصہ گزر گیا تو میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔میں نے دیکھا کہ میرے دائیں طرف حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل بیٹھے ہیں۔میں ان کی طرف جھکا اور کہا کہ مجھ سے تو پیچھے مڑ کر دیکھا نہیں جاتا۔انہوں نے فرمایا میری بھی یہی حالت ہے۔میں نے کہا مجھے ایک خیال آیا ہے میں آپ کی پیٹھ کے پیچھے دیکھتا ہوں اور آپ میری پیٹھ کے پیچھے دیکھیں۔اس پر انہوں نے میری پیٹھ کے پیچھے دیکھا اور میں نے اُن کی پیٹھ کے پیچھے اور ایک ہی وقت میں ہم دونوں چلائے کہ پیچھے اینٹیں پکتی ہیں اور جیسا کہ شدید خوشی کی حالت میں جب وہ شدید مایوسی کے بعد پیدا ہوا انسان کے قومی مضمحل ہو جاتے ہیں ہمارے جسم ڈھیلے ہوکر زمین پر گر گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔