خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 68

خطبات محمود ۶۸ سال ۱۹۳۷ء یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہیں اور میں ان میں تقریر کر رہا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور اس کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں کہ دیکھو! ایک حسین انسان اپنے حسن کو آئینہ میں دیکھتا ہے اور اس آئینہ کو بڑا قیمتی سمجھتا ہے اور سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے اس کا حُسن اُسے نظر آتا ہے۔لیکن اگر آئینہ میلا ہو جائے اور اس میں حسن پوری طرح نظر نہ آئے تو پہلے تو مالک اُسے صاف کر کے کام چلاتا ہے لیکن اگر وہ زیادہ میلا ہوتا چلا جائے تو ایک دن پھر ایسا آجاتا ہے کہ اس میں مالک کی شکل اچھی طرح نظر نہیں آتی اور وہ سمجھتا ہے کہ اب یہ میرے لئے بیکار ہے اور وہ اُٹھا کر اُسے پھینک دیتا ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔یہ کہ کر میں نے شیشہ اُٹھایا اور زور سے زمین پر پھینک دیا اور وہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور اس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی۔میں نے کہا دیکھو! خدا تعالیٰ بھی بندوں سے ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔جس طرح اس خراب اور گندے شیشے کے ٹوٹنے سے ہمارے دلوں کو رنج نہیں ہوتا اُسی طرح خدا تعالیٰ بھی ایسے شخص کی پرواہ نہیں کرتا جو اُس کے حُسن اور چہرے کو دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔پس میں جماعت کے احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کیلئے آئینہ بناؤ۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے آئینے بھی میلے ہو جاتے ہیں، تم اپنے آپ کو صاف بھی کرتے رہو۔بعض دفعہ صفائی دوسرے ہاتھ کی محتاج ہوتی ہے، انسان خود صفائی نہیں کر سکتا۔ایسی صورتوں میں اپنے بھائی کی امداد کرو۔اس کے متعلق بھی مجھے ایک رؤیا یا د آیا ہے جو بچپن کے زمانہ کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں زندہ تھے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُس وقت میں سکول میں پڑھا کرتا تھا اور میں نے سکول ۱۹۰۵ ء میں چھوڑا ہے۔اس لحاظ سے یہ رویا ۱۹۰۳ ء یا ۱۹۰۴ ء کا ہے جبکہ میری عمر قریباً پندرہ سولہ سال کی تھی۔میں نے دیکھا کہ ان کمروں میں سے ایک میں کہ جن میں مدرسہ احمدیہ کے لڑکے آجکل پڑھتے ہیں یعنی وہ کمرے کہ جو کنویں کے سامنے ہیں۔ان میں سے درمیانی کمرہ میں ہم کچھ لوگ بیٹھے ہیں گو وہ آدمی جو نظر آتے ہیں تھوڑے ہیں مگر خیال ہے کہ یہاں ساری دنیا کے لوگ جمع ہیں۔ماضی کی حال اور مستقبل کے بھی۔گویا وہ محشر کا دن ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی انتظار میں ہیں کہ آئے حساب لے اور فیصلہ فرمائے۔ایک میز لگی ہوئی ہے جس کے سامنے ایک گری پڑی ہے اور چند فرشتے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک نہایت حسین نوجوان اُس کرسی پر آکر بیٹھ گیا اور رویا میں نے میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے اور ہم سب اس گھبراہٹ اور پریشانی میں حیران ہیں کہ کیا انجام ہوگا کہ