خطبات محمود (جلد 18) — Page 70
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء میں آج کہ اس پر قریباً ۳۳ سال گزر گئے ہیں اس نظارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اُسی طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح کہ اُس وقت دیکھا تھا۔یہ واقعات گہرے طور پر میرے دماغ میں منقش ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ اُس وقت کے جذبات آج کے جذبات نہیں ہو سکتے اور اُس وقت کی گھبراہٹ کا ن اندازہ تو آج لگایا ہی نہیں جاسکتا لیکن پھر بھی ظاہری نظارے بہت حد تک میرے دماغ میں مرسوم ہیں اور یہ رویا میں نے اس لئے سنایا ہے کہ کبھی کبھی انسان اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں دیکھ سکتا اور شک وشبہ کی حالت میں پڑا رہتا ہے۔اُس وقت بہترین تجویز یہی ہوتی ہے کہ تم اپنے بھائی کی پیٹھ کی طرف دیکھو اور وہ تمہاری پیٹھ کی طرف دیکھے۔تم اس کی صفائی کرو اور وہ تمہاری صفائی کرے۔یہ ایک بہترین طریق ہے اور كُونُوا مَعَ الصَّادِقِین سے کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔دیکھو جھوٹا دوست جھوٹ بول کرتم کو تباہ اور انجام سے بے فکر کر دیتا ہے لیکن جب سچا دوست کچی بات تمہارے سامنے رکھتا ہے تو گودہ گراں گزرتی ہے مگر تمہارے انجام کو درست کرنے والی ہوتی ہے اور تمہاری عاقبت کو ٹھیک کر دیتی ہے۔پس كُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ کے یہی معنی نہیں کہ بزرگوں اور ولیوں کی تلاش کرو۔وہ معنی بھی ہیں اور میں انکار نہیں کرتا مگر یہ معنی بھی ہیں کہ قومی اصلاح کیلئے اس کے ساتھ تعاون کیا کرو جو تمہارے اور تمہارے متعلقین کے عیوب سے تمہیں واقف کرے اور ایسے دوست نہ بنا کر و جو جھوٹ بول کر تمہیں دھوکے میں رکھیں یہاں تک کہ وقت آجائے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہیں دوزخ میں دھکیل دیں اور تمہارے لئے تو بہ کا وقت بھی نہ رہے۔الْعِيَاذُ بِاللهِ الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۳۷ ء ) i بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل - التوبة: ١١٩