خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 639

خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۷ء کرنا پسند نہیں کرتا۔اس بات کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں کے اس کے خاندان کی تعریف میں کچھ شعر کہہ دیئے اور اسے سنائے۔شعر سن کر حاتم نے کہا کہ تم تو بڑے ادیب اور شاعر معلوم ہوتے ہوا اور تمہارے یہ شعر ہمارے خاندان کو ہمیشہ کیلئے مشہور کر دیں گے۔اس کے مقابلہ میں ہمارے یہ اونٹ ہمیں کوئی شہرت کی نہیں دے سکتے۔اس لئے تم قرعہ ڈال کر یہ سب اونٹ آپس میں تقسیم کر لو اور لے جاؤ چنانچہ وہ لے لی گئے۔کسی نے حاتم کے باپ کو بھی اس کی خبر کر دی۔چنانچہ وہ آیا اور اس نے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا ؟ حاتم نے جواب دیا کہ تمہارے یہ اونٹ تمہیں کتنا مشہور کر سکتے تھے۔اگر یہ اونٹ ہوتے تو تمہیں کونسی خاص شہرت ہو جاتی۔جبکہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر کئی ایسے لوگ ہیں جو بہت بہت اونٹوں کے مالک اور امیر ہیں مگر دیکھو یہ شعر اوروں کو کہاں نصیب ہو سکتے ہیں۔یہ تو میں نے تمہارے لئے ایک ایسا شہرت کا ی ذخیرہ مہیا کر دیا ہے جس کے مقابلہ میں اونٹوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔آخر تنگ آکر اُس کے باپ نے کی اُسے عاق کر دیا اور خود کسی اور طرف نکل گیا۔پس ایسا شخص اگر اسلام میں داخل ہو جائے اور صدقہ خیرات کرے تو یقینا یہ اس کا نیک کام ہو گا مگر یہ اُس کی کامل نیکی نہیں ہوگی کیونکہ اس میں اس کی فطرت کے میلان کا بھی دخل ہے۔اسی طرح اگر دنیا کے مشہور جری اور بہادر جیسے ایشیائی پہلوانوں میں رستم اور کی اسفند یار ہیں ، اسلام میں داخل ہو کر اپنے اوقات لڑائیوں میں گزاریں تو بے شک ہم کہیں گے کہ وہ جہاد کرتے ہیں مگر اُن کا یہ جہاد اس پایہ کی نیکی نہیں ہوگی جتنی اُس شخص کی جو لڑائی میں جانا پسند نہیں کرتا۔یہی ای وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق سورۃ انفال میں فرمایا ہے کہ وہ لڑائی کیلئے ایسی حالت میں نکلتے ہیں کہ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ یعنی ان میں سے ایک بڑا گر وہ اس سے نفرت کر رہا ہوتا ہے۔بعض لوگ اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ صحابہ کرام لڑائی سے جی چراتے تھے ، مگر یہ درست نہیں۔صحابہ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ اپنی جانوں کو ہرگز اسلام کے مقابلہ میں عزیز نہیں جانتے تھے۔پس کراہت کے معنے اس جگہ یہ ہیں کہ وہ لڑائی سے نفرت کرتے تھے۔اس لئے کہ اس میں مرے لوگ مارے جائیں گے اور ان دونوں قسم کی کراہتوں میں بڑا فرق ہے۔ایک کراہت اس شخص کی ہے جو سمجھتا ہے کہ میں نہ مارا جاؤں ، وہ بزدل ہے اور ایک اس لئے کراہت کرتا ہے کہ انسانی جانیں ضائع ہوں گی اور مرجانے والوں کیلئے ہدایت کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔یہ اعلیٰ بہادری اور شرافت نفس کی دلیل ہے۔پس جو شخص لڑائی اور دنگا فساد کو پسند کرتا ہے وہ اگر جہاد میں شامل ہو تو یہ اس