خطبات محمود (جلد 18) — Page 640
خطبات محمود ۶۴۰ سال ۱۹۳۷ء کی نیکی تو ضرور ہوگی مگر اُس پایہ کی نہیں جتنی اس شخص کی جو دنگا فساد اور قتل و خونریزی کو نا پسند کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کیلئے وَهُمْ كَرِهُونَ بمقام مدح میں بیان کیا ہے۔وہ جانتا تھا کہ کسی زمانہ میں ان پر یہ الزام لگایا جائے گا۔جیسے آجکل یورپین مؤرخ کرتے ہیں کہ وہ لوگ لوٹ مار کو پسند کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ صحیح نہیں بلکہ وہ تو لڑائی کو دل سے ناپسند کرتے تھے اور صرف اس صورت میں لڑتے تھے کہ جب دیکھتے کہ اب کافروں نے ان کیلئے اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہیں چھوڑا۔تو یہ ان کی نیکی بیان کی گئی ہے کہ وہ مجبور ہو کر لڑتے تھے ورنہ وہ کسی کو دکھ دینا پسند نہیں کرتے تھے۔چنانچہ اس کی عملی ہے الله مثال رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہمیں ملتی ہے۔باوجود اس کے کہ آپ نے درجن بھر سے زیادہ لڑائیوں میں حصہ لیا اور باوجود اس کے کہ آپ شدید معرکوں میں جو بلحاظ قتل و خونریزی کے شدید تھے ، اگر چہ ان میں حصہ لینے والوں کی تعداد زیادہ نہ ہو ، کمان کرتے رہے۔مگر سوائے ایک کے کوئی شخص آپ کے ہاتھ سے مارا نہیں گیا اور وہ بھی اس لئے کہ اس نے خود آپ کے ہی ہاتھ سے مارے جانے پر زور دیا۔آپ خود اسے بھی مارنا پسند نہ کرتے تھے۔صحابہ اس کے مقابلہ پر آتے مگر وہ سب سے کہتا کہ تم ہٹ جاؤ میرا مقابلہ محمد سے ہے اور میں تم میں سے کسی سے نہیں لڑوں گا۔یہ دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے آنے دو۔ورنہ آپ پر نَعُوذُ بِاللهِ بُزدلی کا الزام لگتا اور غیرت کے خلاف فعل سمجھا جاتا۔اور جب وہ آگے آیا تو آپ نے اُسے قتل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ صرف اُس کے حملہ کو روکنے کیلئے نیزہ کی آنی چھوٹی اور اسی سے اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا شدید درد پیدا کر دیا کہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگ گیا اور بعد میں مر گیا ہے گویا اسے بھی آپ نے قتل نہیں کیا بلکہ صرف زخمی کیا اور یہ اتنی عظیم الشان بات ہے کہ دنیا کی کسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی کہ کوئی جرنیل اور کمانڈر اس قدر معرکوں میں شامل ہوا ہو اور اسکے ہاتھ سے صرف ایک ہی شخص مارا گیا ہو۔تو صحابہ عام طور پر اور آنحضرت ﷺے خاص طور پر لڑائی کو نا پسند کرتے تھے مگر باوجود اس کے ان کو لڑائیاں کرنی پڑتی تھیں۔اس لئے کہ دشمن ان کو مجبور کر دیتے تھے۔الا مَا شَاءَ الله بعض اس کے برعکس بھی ہوں گے جو لڑائی کو پسند کرتے ہوں گے اور تیز طبیعت بھی ہوں گے مگر مستثنیات ہمیشہ قانون کو ثابت کرتی ہیں رد نہیں کرتیں۔تو وہ اخلاق جو طبیعت کے خلاف ظاہر ہوتے ہیں وہی نیکی کے کمال پر دلالت کرتے ہیں۔طبیعت کے میلان کے مطابق جو نیکی ہو وہ کامل نیکی نہیں کہلا سکتی۔مثلاً حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے