خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 638

خطبات محمود ۶۳۸ سال ۱۹۳۷ء صرف خوراک کے متعلق اختلاف ابتلاء کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ایک بچہ کہتا ہے کہ میں فلاں تر کاری کھاؤں گا تو دوسرا بچہ کہتا ہے کہ میں یہ نہیں بلکہ وہ کھاؤں گا۔ایک ایک پھل کو پسند کرتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ مجھے یہ پسند نہیں ، میں تو فلاں لوں گا۔ایک کہتا ہے میں ٹوپی پہنوں گا تو دوسرا پگڑی کو پسند کرتا ہے۔غرض یہ اختلاف طبائع میں کھانے پینے پہنے میں اور اخلاق میں اس قدر عظیم الشان ہے کہ قریبی سے قریبی رشتوں میں بھی بالکل نمایاں اور ظاہر نظر آتا ہے۔ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بچوں میں سے کوئی تو گھر میں بیٹھ کر کام کرنا پسند کرتا ہے اور دوسرا باہر چلنے پھرنے میں خوش رہتا ہے۔ایک کوکی حساب سے دلچسپی ہوتی ہے ، دوسرے کو سائنس سے اور تیسرے کو ادب اور شاعری کا مذاق ہوتا ہے۔پھر ایک قسم کے پیشوں میں بھی آگے اختلاف ہوتا ہے۔اگر سب تجارت کرتے ہیں تو ایک کسی قسم کی تجارت کرتا ہے اور دوسرا دوسری قسم کی۔کوئی کسی میں ترقی کرتا ہے اور کوئی کسی میں۔پھر اگر ترقی کرنے والے نہ بھی ہوں اور صرف دن گزارنے والے ہوں تو بھی کوئی کسی کام سے روٹی کماتا ہے اور کوئی کسی سے۔پس یہ اختلاف دنیا میں ہر جگہ اور ہر حالت میں پایا جاتا ہے اور انسانی میلان اتنائین اور واضح ہوتا ہے کہ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور جس چیز میں انسان کا طبعی میلان ہو اُس کے مطابق اگر اسے کوئی کام پیش آئے اور وہ اس میں بشاشت بھی محسوس کرے تو وہ نیکی تو ہے مگر اس پایہ کی نہیں جس کا میلان اس کی فطرت میں نہ ہو۔حاتم طائی سخاوت میں مشہور ہے مگر اس کا طبعی میلان سخاوت کی طرف تھا۔بچپن سے ہی وہ سخاوت کو پسند کرتا تھا۔بلکہ بچپن میں جب اسے کھانے کیلئے کوئی چیز ملتی تو وہ دوسرے بچوں کو ڈھونڈتا پھرتا تھا کہ ان میں تقسیم کر دے اور اگر کوئی بچہ نہ ملتا تو وہ رو پڑتا کہ کسے دے۔بسا اوقات بچپن میں وہ اپنے کپڑے دوسروں کو دے دیتا۔حتی کہ ایک دفعہ اس کے باپ نے اس ڈر سے کہ وہ گھر کو اُجاڑ دے گا اسے جنگل میں اونٹوں کے گلوں پر بھیج دیا اور خیال کیا کہ وہاں تو اس طرح اُجاڑ نہیں کر سکے گا۔وہاں سینکڑوں اونٹ پلتے تھے۔اتفاق سے وہاں عرب کے تین مشہور شاعر آگئے جو ا کٹھے کسی میلہ پر شعر کہہ کر واپس آرہے تھے۔وہ جب اس جگہ پہنچے تو حاتم نے اُن کیلئے تین اونٹ ذبح کر ڈالے۔انہوں نے کہا ہم تو صرف تین آدمی ہیں۔ہمارے لئے ایک ہی اونٹ کافی تھا۔اس پر اُس نے جواب دیا کہ اگر میں ایک ہی اونٹ ذبح کرتا تو یہ صرف ایک کی مہمان نوازی ہوتی اور باقی دو طفیلی ہوتے اور میں مہمانوں میں فرق