خطبات محمود (جلد 18) — Page 504
خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۷ء صرف روانی نہیں پیدا کرنی بلکہ جہاز والی روانی پیدا کرنی ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ جماعت کیلئے کوئی مقصود قرار دیں اور مراقبہ کرتے رہیں کہ ہماری روانی جہاز والی ہے یا شہتیر والی۔اگر ہم الہی جماعت ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ایک مقصود کو سامنے رکھ کر جہاز کو اُس لائن پر چلا ئیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ منزل پر پہنچ سکیں۔اور تحریک جدید سے میری غرض یہی ہے کہ جن امور کی طرف جماعت کو توجہ کی ضرورت ہے اور ابھی اُس طرف دھیان نہیں ، اُس طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے اور ہوشیار کیا جائے تاہم اسلامی نظام کی روح کو قائم کریں۔اس میں شک نہیں کہ نظام حکومت سے کامل ہوتا ہے مگر جب حکومتوں کو مسلمان بنانے میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے اُس وقت تک جتنا بھی اسلامی نظام ہم قائم کر سکتے ہیں اتنا ہی کام ہمیں کرتے رہنا چاہئے اور ایسا کرنے میں کسی شخصیت کی پرواہ نہ کرنی چاہئے۔اگر ایک بادشاہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہے مگر ہمارے ساتھ نہیں چلتا تو اسے ایک گندہ عضو سمجھ کر الگ کر دینا چاہئے اور ج اس بات کو بالکل بھول جانا چاہئے کہ یہ جماعت بڑوں اور چھوٹوں اور عالموں اور جاہلوں کی جماعت ہے۔اور صرف ایک ہی بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی جماعت ہے۔اگر کوئی آدمی بڑا ہے اور ی وہ نظام کی پرواہ نہیں کرتا تو اسے بھی الگ کر دیں اور اگر کوئی چھوٹا ہے جو ایسا ہے تو اسے بھی الگ کر دیں۔اگر کوئی جاہل ہمارے ساتھ نہیں چلتا تو اسے بھی الگ کر دیں اور اگر کوئی عالم نہیں چلتا تو اسے کی بھی۔مجھ سے ایک دفعہ ایک شخص نے سوال کیا چونکہ اب وہ فوت ہو چکے ہیں میں اُن کا نام بھی لے لی یتا ہوں، وہ صاحب شیخ غلام احمد صاحب واعظ مرحوم تھے۔اُنہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک کن لوگوں سے تعلق رکھنے میں جماعت کی مضبوطی ہو سکتی ہے ، امیروں سے یا غریبوں سے؟ یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کے آخری ایام کی بات ہے۔انہوں نے صوفیانہ رنگ میں یہ سوال کیا۔میں نے انہیں جواب میں لکھا کہ جماعت کی مضبوطی اُن لوگوں کے ساتھ ہو سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے ہوں، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب کئی دفعہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کا کام کرنے والا ایک غریب ہوتا ہے اور کئی دفعہ امیر۔کسی کو کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترقی کس کیلئے مقدر کی ہوئی ہے۔پس جو خدا تعالیٰ کا ہے وہی ہمارا ہے۔اگر امیر خدا تعالیٰ کا ہے تو ہمارے سر آنکھوں پر اور اگر غریب ہے تو وہ ہمارے سر آنکھوں پر۔اور جو خدا کا نہیں اسے ہمارا سلام ہے۔ہم نہ سوشلسٹ ہیں کہ غریبوں کو ابھارنا ہمارا کام ہو اور نہ کیپٹیلسٹ ہیں کہ