خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 505

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء سرمایہ داروں کی مدد کریں۔ہماری جماعت کوئی کسان موومنٹ نہیں کہ ہم کسانوں کیلئے اپنی سعی کو وقف کر دیں اور نہ یہ کیپٹیلسٹوں کی سوسائٹی ہے کہ تاجروں اور طاقتوروں کی مدد کریں۔جو لوگ اس قسم کی باتوں میں پڑتے ہیں وہ ہمیشہ نقصان اُٹھاتے ہیں۔یہاں بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ یہاں غریبوں کی کوئی قدر نہیں اور کوئی کہتا ہے کہ یہاں کسی بڑے چھوٹے کی عزت ہی نہیں۔حالانکہ ایسی باتیں کرنے والوں میں خود استقلال نہیں ہوتا۔جو کہتے ہیں کہ غریبوں کو کوئی نہیں چھتا ، جب مصری صاحب کا فتنہ اٹھا تو یہی کہتے تھے کہ دیکھو جی اتنے بڑے آدمی کی پرواہ نہیں کی گئی۔ایسے لوگوں کو صرف باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے، حقیقت کو وہ نہیں سمجھتے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے سلسلہ کیلئے مفید ہے ہم اُسے اونچا کرتے ہیں اور جو مضر ہے اُسے الگ کر دیتے ہیں۔صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ جدا کر نا ظلم کے رنگ میں نہ ہو بلکہ خیر خواہی کے رنگ میں ہو۔دانت آدمی ہمیشہ رنج سے ہی نکلواتا ہے وہ اُس کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے مگر وہ مجبور ہوتا ہے۔اسی طرح ہم بھی جسے نکالتے ہیں افسردہ دل کے ساتھ ہی نکالتے ہیں ، خوشی سے نہیں۔ہمارے دل غمگین ہوتے ہیں کہ جو چیز ہماری تھی وہ اب ہماری نہیں رہی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ہمارے دل میں ایسی ہو کہ ہم کہیں جس کی وجہ سے درد پہنچا ہے ، وہ سب سے بڑا ہے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نظم لکھی جس کا ایک مصرعہ یہ ہے ع بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پر اے دل تو جاں فدا کر یعنی بیشک مبارک احمد کی وفات کا صدمہ بڑا ہے مگر اے دل! جس نے اسے اپنے پاس بلایا ہے وہ اس سے بھی زیادہ پیارا ہے۔یہی وہ حقیقی معرفت کا مقام ہے جو مومن کو حاصل کرنا چاہئے۔جو شخص سچائی کو چھوڑتا ہے، اسے دلیری کے ساتھ مگر افسردگی کے جذبات کے ساتھ الگ کر دیا جائے۔یہ تحریک ابتداء تین سال کے لئے تھے اور یہ تین سال تجربہ کے تھے۔اور اس کے شروع میں ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ ختم ہو جائے گی بلکہ تین سال کے بعد یہ اس سے بھی زیادہ تعہد کے ساتھ جاری ہوگی اور زیادہ گراں اور بوجھل سکیم پیش کی جائے گی۔آج میں اس نئی تحریک کو بیان تو نہیں کرتا ،صرف احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں پر غور کریں کہ ان تین سالوں میں انہوں نے اس پر عمل کیا ہے یا نہیں ؟ اور اگر کیا ہے تو اس کا کیا نتیجہ ہوا۔اور اگر نہیں کیا تو وہ سوچیں کہ انہوں نے ی