خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 503

خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۷ء گزارے کر رہے ہیں اور بہت خوش ہیں ، بعض ابھی مشکلات میں ہیں۔اور مختلف ممالک کے متعلق بھی ہے ہمیں نئے تجربے ہوئے ہیں۔مشرقی ممالک میں سوائے جاوا ، سماٹرا اور سٹریٹ سیٹلمنٹ کے ہمیں ابھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔چین اور جاپان میں ابھی تک بالکل کامیابی نہیں ہوئی۔بلکہ تازہ اطلاع جو آج ہی بذریعہ تار مجھے ملی ہے یہ ہے کہ جاپانی گورنمنٹ نے صوفی عبد القدیر صاحب کو قید کر لیا ہے اور ضمناً میں ان کیلئے دعا کی تحریک بھی کرتا ہوں۔اس کے متعلق ہم اب تحقیقات کرئیں گے کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔لیکن بہر حال چوتھے سال کے ابتداء میں یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا انذار ہے کہ سب حالات پر غور کر کے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کی مشکلات بھی تبلیغ کے رستہ میں حائل ہوں گی۔صوفی عبدالقدیر صاحب تحریک جدید کے تجارتی صیغہ کے نمائندہ تھے۔گویا وہ با قاعدہ مبلغ نہیں تھے اور ابھی زبان ہی سیکھ رہے تھے اور اب تو ان کی واپسی کا حکم بھی جاری ہو چکا تھا کیونکہ دوسرے مبلغ یعنی مولوی عبد الغفور صاحب برا در مولوی ابوالعطاء صاحب وہاں جاچکے ہیں۔تو تجارتی اغراض کے ماتحت جانے والے ایک احمدی کیلئے جب اس قدر مشکلات ہیں تو تبلیغ کیلئے جانے والوں کیلئے کس قدر ہوں گی۔جہاں تک معلوم ہو سکا ہے ان پر الزام یہ لگایا گیا ہے کہ وہ جاپانی گورنمنٹ کے مخالف ہیں اور یہ بھی ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔انگریز ہمیں کہتے ہیں کہ تم ہمارے خلاف ہو اور دوسری حکومتیں یہ کہتی ہیں کہ تم انگریزوں کے خیر خواہ ہو۔بہر حال یہ سب نئے تجربے ہیں جو ہمیں حاصل ہو رہے ہیں اور ان سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس کس قسم کی رکاوٹیں ہمارے رستہ میں پیدا ہونے والی ہیں۔پھر ایک نیا تجربہ یہ ہوا ہے کہ امریکن گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ محمد ابراہیم صاحب ناصر کو اس بناء پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے قائل ہیں۔تو ہمیں ان مبلغوں کے ذریعہ سے نئی نئی مشکلات کا علم ہوا ہے۔ان کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں جن سے جماعت کے اندر بیداری پیدا ہوئی ہے۔سادہ زندگی ہے، سینما اور تھیٹروں وغیرہ کی ممانعت ہے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا حکم ہے۔اس سے قوم میں نئی روح پیدا ہوتی ہے اور یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بغیر کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی۔دنیا میں دو قسم کی رفتاریں ہیں ایک تو یہ کہ جہاز کسی منزل کو سامنے رکھ کر چلے اور دوسری یہ کہ کی ایک شہتیر پانی میں بہا جارہا ہو۔پانی جس طرف لے جائے وہ اُدھر ہی چل پڑے۔ہم نے جماعت میں