خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 470

خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کیلئے ابتلا کا موجب بن رہے ہیں یا ابتلا کا موجب بنے کیلئے وہ تیار رہتے ہیں۔گو ابھی تک ان کا گند ظاہر نہ ہوا ہو۔دین کیلئے قربانیوں میں میں دیکھتا ہوں کہ بہت سستی ہے۔کچھ عرصہ ہوا میں نے جماعت کے ساتھ نمازوں کی پابندی کی ہدایت کی تھی۔باہر کا تو مجھے علم نہیں لیکن قادیان میں اس خطبہ کا دو چار ماہ تک اچھا اثر رہا مگر بعد میں پھر زائل ہو گیا۔حالانکہ نماز تو ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر خلافت بھی باقی نہ رہے تب بھی اس کی پابندی لازمی ہے۔آدمی جنگل میں ہوتب بھی اسے نہیں چھوڑا جاسکتا اور سمندر میں ہو تب بھی نہیں۔یہ مستقل ہدایت ہے جسے کسی جگہ بھی چھوڑنے کی اجازت نہیں۔پھر میں نے سچائی کی ہدایت کی تھی۔اس کا بھی کچھ عرصہ خیال رہا۔دوستوں نے ایک دوسرے کی نگرانی شروع کی ، ایک دوسرے کو سنبھالنے لگے مگر کچھ عرصہ کے بعد بھول گئے۔اسی طرح تحریک جدید کے وعدے ہیں۔گزشتہ دنوں الفضل“ کو ایک مستقل نوٹ لکھ کر دے دیا تھا کہ شائع ہوتا رہے۔اس کے نتیجہ میں پندرہ روز تک تو آمد قریباً دگنی ہوگئی لیکن پھر سستی پیدا ہونے لگی۔حالانکہ تحریک جدید کوئی پہلی دفعہ نہ ہوئی تھی یا اس میں چندوں کے وعدے جبر نہ لئے گئے تھے۔دوستوں نے اپنی مرضی سے وعدے کئے تھے۔پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ادا کرنے کیلئے میری طرف سے یاددہانیوں کے منتظر رہیں۔اسی طرح ناظر صاحب بیت المال نے مجھے کہا کہ چندہ جلسہ سالانہ کیلئے تحریک کر دوں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اس تحریک کی ضرورت ہی کیوں سمجھی جاتی ہے۔کیا جلسہ پہلی دفعہ آیا ہے؟ یہ جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کیا ہوا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایک حصہ جماعت کا اس امر کا محتاج ہے کہ میں کہوں تو وہ اس کیلئے چندہ دیں۔کیا وہ خدا کے حضور پیش ہونے والے نہیں ؟ پھر کیوں وہ وعدے کر کے پورے نہیں کرتے اور کیوں اس تحریک میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے سالہا سال سے قائم ہے میری تحریک کی ضرورت سمجھتے ہیں۔یہ عدم استقلال کا ثبوت ہے۔اگر تم جیتنا چاہتے ہو تو و اپنے اندر استقلال پیدا کرو۔سچائی پیدا کرو اور امانت پیدا کرو۔پھر دیکھو دشمن تم سے کس طرح خوف کھاتا ہے۔دشمن ہمیشہ دو چیزوں سے ڈرتا ہے۔یا طاقت سے اور یا پھر اعلیٰ درجہ کی نیکی سے۔جب کوئی