خطبات محمود (جلد 18) — Page 469
خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۷ء اس واسطے آپ پر حملہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو جھوٹا سمجھتا ہے لیکن یہ دوستی کا دم بھرتا ہوا آپ کے کا م کو تباہ کرتا ہے۔اس نے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا کہ آپ کی لائی ہوئی صداقتوں کو دنیا میں قائم کرنے میں مدد دے گا۔لیکن جب پہلا ہی موقع ملا یہ اسی دیوار کو گرانے کیلئے کھڑا ہو گیا جو آپ نے تعمیر کی تھی۔پس اچھی طرح یا درکھو کہ احمدیت کی فتح سچائی سے ہوگی۔جب تک تم سچائی پر اس طرح قائم نہ کی ہو جاؤ کہ کسی بات کے متعلق محض اس وجہ سے کہ وہ ایک احمدی نے کہی ہے قسم کھا سکو کہ سچ ہے اُس وقت تک تمہاری فتح نہیں ہو سکتی۔یہ کافی نہیں کہ جب میں جگاؤں تم ہوشیار ہو جاؤ اور کچھ عرصہ بعد پھر سو جاؤ۔اس طرح تو ایک افیونی بھی کر لیتا ہے۔وہ بھی کسی نہ کسی وقت ہوشیار ہو جاتا ہے۔تمہیں چاہئے کہ سچائی پر اس طرح قائم ہو جاؤ کہ کسی کے جگانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔میں نے بتایا تھا کہ ہمیں عقائد کے میدان میں جس طرح فتح حاصل ہو چکی ہے اس طرح اعمال کے میدان میں نہیں ہوئی۔ہمارے اعمال کو دیکھ کر لوگ اتنے متاثر نہیں ہوتے جتنا عقائد سے متاثر ہوتے ہیں۔وفات مسیح کے دلائل سن کر لوگ کہ دیتے ہیں کہ اس کا ہمارے پاس جواب نہیں۔لیکن جب ہم اُن کو سچائی کی طرف بلاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس پر تم بھی پوری طرح قائم نہیں ہو۔قرآن کریم کے کامل ہونے کے جب دلائل دیتے ہیں تو ی کہتے ہیں کہ اس کا جواب کوئی نہیں۔لیکن جب امانت کا سبق دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس پر ابھی تم کی بھی قائم نہیں ہو۔عقائد کے میدان میں ہم نے دشمن کو مار دیا ہے مگر جہاں عمل کا سوال ہو ہم میں ؎ بعض کمزوریوں سے وہ فائدہ اُٹھاتا ہے۔اگر جماعت کے دوست پختہ عہد کریں کریں جس طرح زبان دانتوں میں لے کر انسان تکلیف برداشت کرنے کیلئے آمادہ ہو جاتا ہے کہ آئندہ ہم استقلال پر قائم ہوں گے ، سچائی پر قائم ہوں گے ( دراصل سچائی پر قائم رہنے کا نام ہی استقلال ہے ) تو عمل کے میدان میں بھی ہم اسی طرح غلبہ حاصل کر سکتے ہیں جس طرح عقائد کے میدان میں کیا ہے۔صرف عہد کی ضرورت ہے۔ہمیں صداقت پر اس طرح قائم ہونے کا عہد کرنا چاہئے کہ دشمن بھی محسوس کریں کہ ایک احمدی کے منہ سے نکلی ہوئی بات پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے نمونے ہیں کہ باہم لڑائی کے موقع پر دشمن کہہ دیتا ہے کہ جو بات فلاں احمدی کہے گا ہم مان لیں گے مگر ایسے نمونے کم ہیں۔بہتوں کا چال چلن لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے اور بعض اپنے جھوٹ سے لوگوں کی