خطبات محمود (جلد 18) — Page 471
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء قوم کسی بات پر ہٹ کر کے قائم ہو جاتی ہے تو لوگ اس سے ڈرنے لگتے ہیں۔ابھی دیکھ لولا ہور میں مدیح کی کی تعمیر کا سوال تھا۔گورنمنٹ نے پچاس لاکھ روپیہ کا نقصان اُٹھا کر اس کی تعمیر روک دی ہے۔حالانکہ اگر ہندو ،سکھ ،مسلمان ، عیسائی سب مل کر ایک وفد حکومت کے پاس لے جائیں کہ ہماری کسی یو نیورسٹی کو پچاس لاکھ کی امداد دی جائے تو حکومت کبھی اس بات کو تسلیم نہ کرے گی۔پہلے اس مذی کی تعمیر کور کو انے کیلئے جب ہندوؤں نے کوشش کی تو انگریزوں نے یہی جواب دیا کہ اس میں تمہارا فائدہ ہے نقصان نہیں۔مگر انہوں نے کہا کہ ہمیں اس فائدہ کی ضرورت نہیں اور اس کے خلاف ایجی ٹیشن کیلئے زبردست تیاریاں شروع کر دیں۔حتی کہ ایسے ایسے ہندو جو حکومت کے وزراء رہ چکے ہیں انہوں نے بھی اپنے نام کی جتھوں میں جانے کیلئے پیش کر دئیے۔تو وائسرائے نے چپکے سے اعلان کر دیا کہ چونکہ اس سے ہندوؤں کی دل آزاری ہوتی ہے ہم اس سکیم کو واپس لیتے ہیں۔یہ استقلال کا نتیجہ تھا اور اسی کی بدولت ہندوؤں کو یہ فتح حاصل ہوئی۔ایسا اعلان کیوں نہ وائسرائے نے پہلے ہی دن کر دیا۔کیا پہلے انہیں علم نہ تھا کہ اس سے ہندوؤں کی دلآزاری ہوگی۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ انہیں پہلے علم نہ تھا وہ غلط کہتا ہے، یقیناً انہیں اس کا علم تھا۔ہاں یہ علم انہیں پہلے نہ تھا کہ ہندو اس مدیح کا مقابلہ کرنے کیلئے اس طرح لڑنے مرنے کو تیار ہی ہو جائیں گے۔پس جو قوم استقلال کے ساتھ کھڑی ہو جائے اُس سے سب ڈرتے ہیں اور جب کوئی قوم صداقت پر قائم ہو جائے تو لوگ اس کی طرف رغبت کرتے ہیں۔مجھے تو غیرت آتی ہے کہ ہندو ایک جانور کیلئے اور ایسے جانور کیلئے جسے وہ مارتے کو ٹتے بھی ہیں، اُس کا دودھ بھی دوہتے ہیں ، ان میں سے بعض اس کے چمڑے کی تجارت بھی کرتے ہیں ، وہ قربانی کرتے ہیں جو ہم میں سے بعض خدا اور رسول کیلئے نہیں کرتے۔ہندو گائے کیلئے کھڑے ہوئے اور استقلال کے ساتھ کھڑے ہوئے تو حکومت نے اپنا پچاس لاکھ کا نقصان کر کے ان کی بات کو مان لیا۔پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم خدا اور اس کے رسول کے لئے کھڑے ہو جاؤ تو لوگ تم کو فنا کر دیں گے۔یاد رکھو کہ جو مرنے کیلئے تیار ہو جائے اُسے کوئی نہیں ماری سکتا۔لوگ بھی اُسی پر زور ڈالتے ہیں جس کا اپنا دل ڈرتا ہو۔اگر تم استقلال کے ساتھ اسلام کی اشاعت میں لگ جاؤ اور اس کام میں کوئی سستی اور غفلت نہ کرو تو کوئی نہیں جو تمہارے مقابل پر کھڑا ہو سکے۔بلکہ ہر دشمن خود تم سے مرعوب ہوگا اور تمہاری طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے والے کا دل خود بخود کانپنے لگے گا اور