خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 467

خطبات محمود ۴۶۷ سال ۱۹۳۷ء چڑھتا ہے۔بارش ہوتی ہے اور تھم جاتی ہے۔پھر ہوتی ہے اور تھم جاتی ہے۔سورج چڑھتا ہے اور غروب ہو جاتا ہے۔غرضکہ دُکھ ہو یا سکھ اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ ان میں دورے ہوتے ہیں۔یہی حال کی ابتلاؤں کا ہے اور یہی انعاموں کا۔دشمن کبھی گالیاں بہت زیادہ دیتے ہیں اور کبھی خاموش ہو جاتے ہیں۔پھر گالیاں دینے لگتے ہیں اور پھر چپ ہو جاتے ہیں۔کبھی اتہامات لگاتے ہیں کبھی رُک جاتے ہیں۔پھر اتہامات لگاتے ہیں پھر چپ ہو جاتے ہیں۔رات اور دن کی طرح راحت اور تکلیف کے وقت آتے اور بڑھتے گھٹتے رہتے ہیں۔جب تکلیف کا دور آتا ہے وہ خود قربانیوں کو کھینچ لیتا ہے۔مگر جب اس میں کمی ہو تو ہمارا فرض یہ ہونا چاہئے کہ ہم قربانیوں میں سستی نہ کریں اور آئندہ حملہ کے مقابلہ کیلئے تیاری کرتے رہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے نیند کو سبات بنایا ہے لے یعنی نئی تیاری کیلئے کی قومی کو آرام دیا جاتا ہے۔گرمی کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے تا انجمن پھر کام کر سکے۔تو درمیانی وقفے اس لئے ہوتے ہیں کہ آئندہ حملے کیلئے تیاری کی جائے اور جو قو میں اس وقفہ میں سو جاتی ہیں وہ آئندہ حملہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا نہیں کر سکتیں۔عقلمند فوج رات کو اس فصیل کی مرمت میں لگ جاتی ہے جو دن کے وقت دشمن کے حملہ سے ٹوٹ چکی ہو اور کوشش کرتی ہے کہ اسے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دے۔لیکن ی اگر یہ نہ ہو سکے تو رخنہ کو پُر کر دینے کی تو ضرور کوشش کرتی ہے۔اگر ایسا نہ کرے تو دشمن اگلے روز حملہ کی کر کے اسے اور توڑ دے گا اور اسی طرح توڑتے توڑتے وہ قلعہ میں داخل ہو جائے گا۔پس عقلمند فوج وہی ہے جو دن کولڑائی اور رات کو مرمت کرتی ہے۔اسی طرح ان درمیانی وقفوں میں جماعتوں سے یہی امید کی جاتی ہے کہ گزشتہ رخنوں کو بند کریں اور آئندہ کیلئے زیادہ سے زیادہ قربانی کریں۔مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور وزانہ دلائل سنائے جاتے ہیں، پھر بھی جب کبھی کوئی راحت اور آرام کی گھڑی آ جائے لوگ سونا چاہتے ہیں۔میرے ان خطبات کو نکال کر دیکھ لو جو تحریک جدید کی سکیم کو بیان کرتے ہوئے میں نے دیئے تھے۔میں نے ان میں بتایا تھا کہ یہ ابتلا چھوٹے اور معمولی ہیں ، ان کے بعد بڑے ابتلا آئیں گے۔دیکھو اُس وقت کسے اس مصری، پیغامی ، احراری فتنہ کی خبر تھی۔مگر اُسی طرح ہوا جس طرح میں نے کہا تھا۔اب بھی پھر میں یہی کہتا ہوں کہ یہ فتنے بھی معمولی ہیں۔ان سے بھی بڑے ابھی آنے والے ہیں اور جب تک وہ نہ آئیں قوم بن ہی نہیں سکتی۔جب تک ایسی دلیری ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے کہ اپنی جان دینا اور