خطبات محمود (جلد 18) — Page 466
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء جہازوں میں اور خشکیوں پر سفر کی صعوبتیں برداشت کرو، غیر ملکی زبانیں بولنے والوں اور مختلف تمدن کے لوگوں سے ملو اور اس طرح وطن کی قربانی کی مشق کرو۔پر امن زمانہ میں پیدا ہونے والے نبیوں کو ادھر تو یہ حکم ہوتا ہے کہ جا کر لڑو اور دوسری طرف یہ کہ نہ لڑو۔ایک طرف تو حکم ہوتا ہے کہ جاؤ اور دنیا میں تہلکہ مچادو ، اور دوسری طرف یہ کہ امن نہ خراب کرنا۔ایک طرف تو یہ حکم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرو، اور دوسری طرف یہ کہ بادشاہ اور حکام سے نرمی کا برتاؤ کرنا۔وہ دو کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں۔ان کو یہ بھی حکم ہوتا ہے کہ دنیا کے ہر بڑے چھوٹے اور امیر غریب کے اخلاق کو درست کریں اور یہ بھی کہ بادشاہ اور حکام سے ملائمت اور نرمی سے بات کریں۔ان سے لڑائی کی ساری کیفیات پیدا کرائی جاتی ہیں مگر پُر امن ذرائع سے۔ان کیلئے جہاں یہ حکم ہوتا ہے کہ لڑائی کیلئے گھر سے نہ نکلو وہاں یہ بھی ہوتا ہے کہ تبلیغ کیلئے گھروں کو چھوڑ دو اور بغیر تلوار کے سب قوموں سے جنگ کرو۔ان سے اپنے دل کی قربانی کرائی جاتی ہے اور ان کو یہ حکم ہوتا ہے کہ وسرے کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو مارو۔جو انبیاء بغیر تلوار کے آتے ہیں ان کو یہی حکم ہوتا ہے کہ خود کو قتل کرو۔جاؤ تبلیغ کرو، لوگ گالیاں دیں گے اُن کو سنو اور اپنے دلوں کا خون کرو۔لوگ ماریں گے اور ی گھروں سے نکال دیں گے مگر تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ تم ماریں کھاؤ اور گھروں سے نکل جاؤ۔لیکن جو ان انبیا ء پر امن زمانہ میں پیدا نہیں ہوتے گوان کو بھی پہلے ظلم برداشت کرنے کا ہی حکم ہوتا ہے مگر جب وہ ظلم کی ایک حد تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہو جاتی ہے کہ مقابلہ کرو۔مگر جونہی کی پر امن زمانہ میں ہوتے ہیں ان کیلئے جنگ کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ یہی حکم ہوتا ہے کہ ظلم برداشت کرتے چلے جاؤ۔بیشک یہ ظلم کے زمانے دورے کے ساتھ آتے ہیں کبھی ظلم زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم کیونکہ خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے۔عورت کو درد زہ ہوتا ہے مگر ہر شخص کو معلوم ہے کہ یکساں نہیں ہوتا۔اٹھتا ہے اور رُکتا ہے۔پھر اُٹھتا ہے پھر رکتا ہے حتی کہ انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تو بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔بعض لوگوں کے سر میں آنکھ کی خرابی کی وجہ سے درد اٹھتا ہے اور ٹیسیں پڑتی ہیں جنہیں پنجابی زبان میں ہلیں کہتے ہیں۔مگر اسی طرح کہ ٹیں پڑی اور رک گئی پھر پڑی اور پھر رک گئی حتیٰ کہ جب آنکھ ماری جاتی ہے تو درد بھی بند ہو جاتا ہے۔ہیضہ میں بھی دست اور قے مسلسل نہیں ہوتے بلکہ ہوتے ہیں اور رُک جاتے ہیں ہوتے ہیں اور رُک جاتے ہیں۔بخار بھی ہر وقت یکساں نہیں ہوتا۔چڑھتا ہے اور کم ہوتا ہے۔پھر اُترتا ہے پھر