خطبات محمود (جلد 18) — Page 468
خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۷ء اپنے مال اور وطن کو قربان کر دینا ہمارے لئے آسان ہو جائے اُس وقت تک یہ دور برابر آتے رہیں گے۔اب تو یہ حالت ہے کہ معمولی چوٹ پر بھی ہم میں سے بعض رونے لگتے ہیں۔یا د رکھو کہ جب تک زندگی اور موت ، غنا اور فقر ہنگی اور آسائش ہمارے لئے یکساں نہ ہوں جب تک ہمارے دن بھی راتیں اور راتیں بھی دن نہ ہو جا ئیں اُس وقت تک ہم اس آخری لڑائی کیلئے تیار نہیں ہو سکتے جو اسلام اور شیطان کے مائین مقدر ہے۔اور ابھی تو ہم نفس کی لڑائی سے بھی فارغ نہیں ہوئے۔تحریک جدید کے شروع میں ہی میں نے نصیحت کی تھی کہ ہمیں صداقت کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرنا چاہئے۔مگر تم اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا تم سچ بولتے ہو اور ہمیشہ سچ بولتے ہو۔جب تک جماعت کی اکثریت ایسی نہ ہو جو سچ بولے اور ہر حالت میں سچ بولے اُس وقت تک ہم اس جنگ میں کامیاب نہیں کی ہو سکتے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے سچائی دے کر کھڑا کیا ہے۔قرآن کریم کا نام بھی حق ہے اور اصل جہاد بھی وہی ہے جو قرآن کریم کو لے کر کیا جائے۔جیسا کہ فرمایا وَجَاهِدُ هُمُ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًات اور اصل جہاد اسی کا ہے جو قرآن کریم ہاتھ میں لے کر لڑتا ہے۔بدر و حنین کی لڑائیاں معمولی تھیں۔اصل لڑائی وہی تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تلوار سے کی اور قرآن کریم نام ہے سچائی کا۔جب تک تم اپنے نفسوں میں، اپنے بیوی کی بچوں میں ، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں، اپنے بھائیوں اور بہنوں میں اپنے محلہ والوں میں اور اپنے ہمسایوں میں اپنے شاگردوں میں اور اپنے اپنے حلقہ کی جماعتوں میں سچائی کو قائم نہیں کر لیتے اُس وقت تک تم اس لڑائی کیلئے تیار نہیں ہو سکتے اور جب بھی مقابلہ ہوگا تم شکست کھاؤ گے۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اسے ظاہر نہ ہونے دیا۔میں نے دیکھا ہے ذراسی بات ہو تو بعض نادان کہنے لگا جاتے ہیں کہ آجکل سچ سے گزارہ نہیں ہوتا ، جھوٹ بول دو اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ تلقین کرتے ہوئے وہ نہ صرف اس شخص کو ہی بلکہ جماعت کو بھی ساتھ ہی قتل کر رہے ہیں۔وہ شکایت کرتے ہیں کہ ی احراری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں۔مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ تو گالیاں دیتے ہیں مگر یہ لوگ آپ کی تعلیم میں رخنہ ڈال کر آپ کے قتل کے مرتکب ہورہے ہیں۔جو شخص اس چیز کو مٹاتا ہے جسے قائم کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے وہ آپ کو قتل نہیں کرتا تو کیا کرتا ہے۔حالانکہ وہ اپنے آپ کو سچائی پر قائم بتاتا ہے اور احمدیت کی فوج میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔غیر تو تی