خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 449

۴۴۹ سال ۱۹۳۷ء خطبات محمود ضمنی طور پر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جہاں دوسروں پر الزام لگانے والوں کا ذکر ہے وہاں الزام لگا۔والوں کے متعلق فرمایا ہے کہ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِارْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمِنِينَ جَلْدَةً وَّلَا تَقْبَلُوالَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَأَوْلَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ کہ وہ لوگ جو بے گناہ لوگوں پر کی الزام لگاتے ہیں اور پھر ایک موقع کے چار گواہ نہیں لاتے تو فَاجْلِدُوهُمْ تَمْنِينَ جَلْدَةً تم ان کو ۸۰ کوڑے مارو۔وَلَا تَقْبَلُوالَهُمْ شَهَادَةً اور تم اُن کی موت تک ہمیشہ اُن کو جھوٹا سمجھو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو۔اُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے نزدیک فاسق ہیں۔پھر اسی سورۃ میں جہاں خلفاء کا ذکر کیا وہاں بھی یہی الفاظ رکھے اور فرمایا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فأولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ 19 کہ جو شخص خلیفہ کا انکار کرے وہ فاسق ہے۔اب جو زنا کا الزام لگانے والوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے الفاظ ر کھے تھے اور جو نام ان کا تجویز کیا تھا بعینہ وہی نام خدا تعالیٰ نے خلافت کے منکرین کا رکھا اور قریباً اسی قسم کے الفاظ اس جگہ استعمال کئے۔وہاں بھی یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ بدکاری کا الزام لگاتے اور پھر چار گواہ ایک موقع کے نہیں لاتے انہیں۸۰ کوڑے مارو، انہیں ساری عمر جھوٹا سمجھو اور سمجھ لو کہ وَأُولئِكَ هُمُ الفسِقُونَ یہی لوگ فاسق ہیں۔اور یہاں بھی یہ فرمایا کہ جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے، سمجھ لو کہ وہ فاسق ہے۔تو نام دونوں جگہ ایک ہی رکھتا ہے )۔اب میں پھر اصلی مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو ایک حکیم کی کتاب سمجھتا ہے اور اس کے اعلیٰ درجہ کے با ربط اور ہم رشتہ مضمونوں کے کمالات کے دیکھنے کا جسے ذرا بھی کی موقع ملا ہے، وہ اس موقع پر سخت حیران ہوتا ہے کہ کس طرح پہلے بدکاری اور بدکاری کے جھوٹے الزامات لگانے کا ذکر کیا گیا ہے پھر یکدم اللَّهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کہہ دیا گیا۔اور پھر خلافت کا ذکر شروع کر دیا گیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں مضمونوں میں ضرور کوئی اعلیٰ درجہ کا جوڑ اور تعلق ہے۔اور یہ تینوں مضمون آپس میں مربوط اور ہم رشتہ ہیں۔اس شکل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس من غور کرو جو میں نے اوپر بتایا ہے اور جو یہ ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کی آیت میں الوہیت اور نبوت اور خلافت کے تعلق کو بتایا گیا ہے۔اس مضمون کو ذہن میں رکھ کر آخری دو مضمونوں کا تعلق پالکل واضح ہو جاتا ہے۔کیونکہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ والی آیت میں خلافت کا اصولی ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ خلافت کا وجود بھی نبوت کی طرح ضروری ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے جلال الہی کے ظہور کے مضمون پر