خطبات محمود (جلد 18) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ سال ۱۹۳۷ء مگر اس کے معا بعد فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اب انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کا پہلے رکوعوں سے کیا تعلق ہے؟ ایک ایسا مفسر جو یہ خیال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں وہ بے ربط کلام ہے۔اس کی آیتیں اسی طرح متفرق مضامین پر مشتمل ہیں جس طرح دانے زمین پر گرائے جائیں تو کوئی کسی جگہ جاپڑتا ہے اور کوئی کسی جگہ ، وہ تو کہہ دے گا اس میں کیا حرج ہے۔پہلے وہ مضمون بیان کیا گیا تھا اور اب یہ مضمون شروع کر دیا گیا ہے۔مگر وہ شخص جوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے واقف ہے جو جانتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ ایک ه ترتیب رکھتا ہے ، وہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ پہلے تو بدکاری کے الزامات اور ان کو دور کرنے کا ذکر تھا اور اس کے معا بعد یہ ذکر شروع کر دیا گیا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا۔پھر انسان اور زیادہ حیران ہو جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ پانچویں رکوع میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور اس سے دور کوع بعد یعنی ساتویں رکوع میں اللہ تعالیٰ یہ ذکر شروع کر دیتا ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ١٨ کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجالائے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر ہے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر مج الزام لگنے کا بیان ہے۔پھر ان الزامات کے ازالہ کے طریقوں کا ذکر ہے۔پھر اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کا ذکر آ گیا۔اور پھر کہہ دیا کہ میرا یہ وعدہ ہے کہ جو مومن ہوں گے انہیں میں اِس اُمت میں اسی طرح خلیفہ بناؤں گا جس طرح پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے دین کو دنیا میں قائم کروں گا اور ان کی کے خوف کو امن سے بدل دوں گا۔وہ میری عبادت کریں گے ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو شخص ان خلفاء کا منکر ہو گا وہ فاسق ہوگا۔پس لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پہلے زنا کے الزامات کا ذکر کیا پھر اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کا ذکر کیا اور پھر خلافت کا ذکر کر دیا۔ان کی تینوں باتوں کا آپس میں جوڑ ہونا چاہئے ورنہ یہ ثابت ہوگا کہ قرآن کریم نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ جوڑ باتوں کا مجموعہ ہے اور اس کے مضامین میں ایک عالم اور حکیم والا ربط اور رشتہ نہیں ہے۔اس جگہ