خطبات محمود (جلد 18) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۷ء زمانہ کو ممتد کیا جاتا ہے اور الہی نور کو ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے فائدہ کیلئے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔اس مضمون کے معلوم ہونے پر طبعا قرآن کریم پڑھنے والوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ خدا کرے ایسی نعمت ہم کو بھی ملے۔سو وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ کی آیات میں اس خواہش کے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا اور بتایا کہ یہ نعمت تم کو بھی اسی طرح ملے گی جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کو کی ملی تھی۔غرض میرے بیان کردہ معنوں کے رو سے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں کا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ کی آیت اور اس کی متعلقہ آیتوں سے ایک ایسا لطیف اور طبعی جوڑ قائم ہو جاتا ہے جو دل کو لذت اور سرور سے بھر دیتا ہے اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے اور قرآنی مطالب کی عظمت کا سکہ دلوں میں بٹھا دیتا ہے۔لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ اس مضمون کا پہلی آیتوں سے کیا تعلق ہوا۔یعنی سورہ نور کے پانچویں رکوع کا اس کے نویں رکوع تک تو خلافت سے جوڑ ہوا لیکن جو پہلے چار رکوع ہیں اور جن میں بدکاری اور بدکاری کے الزامات کا ذکر آتا ہے ، اُن کا اِسی سے کیا تعلق ہے۔جب تک یہ جوڑ بھی حل نہ ہو اُس وقت تک قرآن کریم کی ترتیب ثابت نہیں ہو سکتی۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ پہلے چار رکوعوں کا باقی پانچ رکوعوں سے جن میں خلافت کا ذکر آتا ہے کیا تعلق ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ پہلے چار رکوعوں میں بدکاری کے الزامات کا ذکر اصل مقصود ہے اور ان میں خصوصاً اس الزام کارڈ کرنا مقصود ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگانے والوں نے الزام لگایا تو اس کی اصل غرض کیا تھی۔اس کا سبب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی دشمنی تھی۔ایک گھر میں بیٹھی ہوئی عورت سے جس کا نہ سیاسیات سے تعلق ہو، نہ قضا سے ، نہ عہدوں اور اموال کی تقسیم سے ، نہ لڑائیوں کی سے ، نہ مخالف اقوام پر چڑھائیوں سے ، نہ حکومت سے ، نہ اقتصادیات سے، اس سے کسی نے کیا بغض رکھنا ہے۔غرض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہ راست بغض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔پس اس الزام کے بارہ میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ الزام سچا ہو جس امر کو کوئی مومن ایک منٹ کیلئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے عرش سے اس گندے خیال کو ر ڈ کیا ہے۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے ہے