خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 204

خطبات محمود ۲۰۴ سال ۱۹۳۷ء فتنوں کا دروازہ بند کرنے کے اصول (فرموده ۲ جولائی ۱۹۳۷ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اس وقت جو فتنہ جماعت کے سامنے ہے قدرتی طور پر جماعت کے دوستوں کی طبائع میں اس کے متعلق ہیجان ہے۔بعض طبائع اپنے اخلاص اور تقویٰ کی وجہ سے اس بات پر حیران ہیں کہ یہ لوگ جو ی بظاہر احمدیت کی خدمت کر رہے تھے کس طرح احمدیت کے فوائد کے مخالف کھڑے ہو گئے اور کیونکر وہ ان اس ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کی امید جماعت کے دوست ان پر رکھتے تھے۔بعض طبائع ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ انہیں ان میں سے بعض کے حالات پہلے معلوم تھے اور ان کی بناء پر وہ یہ امید رکھتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ لوگ ٹھو کر کھا جائیں گے۔بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اس فکر اور خیال میں پڑے ہیں کہ ان لوگوں کو جماعت سے خارج کرنا دوسرے لوگوں کیلئے ٹھوکر کا موجب تو نہیں ہوگا اور کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ان کے مقابلہ میں کچھ نرمی کی جاتی اور ان کو تو بہ کا موقع دیا جاتا۔غرض مختلف قسم کے خیالات ہیں جو جماعت میں پائے جاتے ہیں لیکن زیادہ تر حصہ جماعت کا وہی ہے جو سمجھتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کا اخراج بہر حال جماعت کیلئے مفید ہے اور یہ کہ رہے ہیں کہ گوی ان لوگوں نے جماعت کی امیدوں کے خلاف نمونہ دکھایا ہے مگر جب ان کا نمونہ ظاہر ہو گیا تو ان کے کی خلاف اس قسم کا سلوک ضروری تھا اور اگر کوئی اور بھی ایسے لوگ ہوں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے۔جماعت کی طرف سے کثرت کے ساتھ اس قسم کے پیغام آئے ہیں کہ یہ وقت ہے کہ اگر اور کوئی