خطبات محمود (جلد 18) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ سال ۱۹۳۷ء یسے لوگ ہوں تو ان کو بھی خارج کر دیا جائے اور اس پھوڑے کو لمبے عرصے تک نہ پکنے دیا جائے۔جو لوگ ان لوگوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی جانتے ہیں جو ان کی نگاہ میں انہیں سلسلہ کے مناسب حال قرار نہ دیتی تھیں، وہ اس نقطہ نگاہ سے مطمئن بھی ہیں کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے یہ نکل جائیں گے۔تیسرا گر وہ جو با وجودا خلاص کے بوجہ نرم طبیعت یا بوجہ اپنی منافقت کے ان سے ہمدردی رکھتا ہے یہ کہتا ہے کہ کیوں نہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا جس سے یہ نتیجہ نکلتا اور یہ لوگ رُک جاتے۔ان میں سے ایک حصہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، مخلص لوگوں کا ہے۔وہ اپنی افتاد طبیعت کی وجہ سے ایسے خیالات ظاہر کرنے پر مجبور ہے۔بعض طبائع قدرتی طور پر ایسی نرم اور ڈرپوک ہوتی ہیں کہ وہ سمجھتی ہیں نہ معلوم کیا ہو جائے گا۔بسا اوقات ان کی یہ رائے بوجہ ناواقفیت کے ہوتی ہے۔وہ حالات کی اہمیت کو نہیں جانتے ہوتے۔اور نہیں جانتے کہ سوائے اس رستہ کے جو اختیار کیا گیا کوئی اور باقی ہی نہ تھا۔لیکن ایک حصہ ایسے لوگوں کا بھی ہوتا ہے جن کی طبیعت میں شبہ اور شک ہوتا ہے۔وہ شک میں ہی پیدا ہوتے ہیں ، شک میں ہی جوان ، اور پھر شک میں ہی بوڑھے اور شک میں ہی مرجاتے ہیں۔ایسے لوگ اگر شادی کیلئے آپ سے مشورہ کرنا چاہیں اور جو حالات وہ بیان کریں ان سے پتہ لگے کہ سوائے شادی کرنے کے ان کے لئے کوئی چارہ کا رہی نہیں اور سوائے اس رشتہ کے جو اُن کے سامنے ہے اور کوئی رشتہ اُن کو مل ہی نہیں سکتا ہے اور آپ کہہ دیں کہ بہت اچھا شادی کر لیں تو یہ فقرہ سنتے ہیں ان کی طبیعت بدل جائے گی اور وہ کہنا ہی شروع کر دیں گے کہ جی اس میں فلاں خطرہ بھی تو ہے، فلاں نقصان کا بھی تو احتمال ہے اور ان کی یہ باتیں سن کر اگر آپ خیال کریں کہ شاید میں نے ان کے حالات سمجھنے میں غلطی کی ہے اور وہ کہہ دیں کہ اچھا آپ وہاں شادی نہ کریں تو وہ معا کہیں گے کہ جی! آپ نے میری یہ مجبوری تو سنی ہی نہیں اور فلاں معذوری پر غور ہی نہیں کیا، ان کے ہوتے ہوئے میں رشتہ سے انکار کیونکر کر سکتا ہوں۔گویا جب بھی آپ کی کوئی رائے ظاہر کریں وہ جھٹ اس کے الٹ ہو جائیں گے۔خدا تعالیٰ نے ان کی طبیعت میں شک پیدا کیا ہوتا ہے۔وہ شک میں ہی زندگی بسر کرتے اور شک میں ہی مر جاتے ہیں اور ایسی مشکوک طبائع کا کوئی علاج نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ ان کے لئے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمز ور طبیعت کی وجہ سے ان کو ایمان سے محروم نہ کر دے۔منافق طبع ان ایمانداروں کے پردے کے پیچھے لڑتے ہیں اور جب بعض مومن بھی ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ منافق کو ایسی باتوں کیلئے