خطبات محمود (جلد 17) — Page 86
خطبات محمود ۸۶ سال ۱۹۳۶ء ۱۹۲۷ء میں لاہور میں بعض سکھوں نے چند مسلمانوں کو جو نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے مار دیا۔اس پر بڑا شور ہوا اور میں نے بھی اس میں دلچسپی لی۔اُس وقت لاہور کے کمشنر مسٹرلینگلے تھے انہوں نے مجھے چٹھی لکھی کہ گورنر صاحب کو آپ کی جماعت پر بڑا اعتماد تھا آپ نے اس وقت کیوں ایسا رویہ اختیار کیا ہے؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ ہم نے کبھی بھی آپ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہم ہمیشہ انصاف کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور یہ حکومت پر کوئی احسان نہ تھا اور اب جو میں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے تو یہ ان پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ انصاف کی حمایت کر کے اپنا فرض ادا کیا ہے۔تو حکومت کی خیر خواہی کے یہ معنی نہیں کہ ہم قوم کے غدار بنیں۔میرا عقیدہ ہے کہ حکومت کی وفاداری اور قوم کی خیر خواہی دونوں جمع ہوسکتی ہیں پہلے بھی یہی عقیدہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ حکومت کی خیر خواہی کے معنی پبلک سے غداری کے نہیں اور اسی کی طرح پبلک کی خیر خواہی کے معنی یہ نہیں کہ حکومت سے غداری کی جائے اور جو ایسا سمجھتا ہے وہ بیوقوف ہے۔اس لئے یہ صحیح ہے کہ حکومت کی حفاظت ہمارے ذریعہ سے ہے۔میں یہ اب بھی کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ظلم کی حمایت کریں گے۔بے شک حکومت کی بلکہ احرار کی اور دوسرے مسلمانوں ، ہندوؤں اور سکھوں کی سب کی حفاظت ہمارے ذریعہ ہے۔بظاہر یہ پاگل پن کی بات معلوم ہوتی ہے اور کوئی کہ سکتا ہے کہ ” کیا پدی اور کیا پدی کا شور با مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ بیج ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے مگر اس سے بڑا درخت بن جاتا ہے۔ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اندر سے درخت نکل رہا ہے۔بڑ کے بیج کو دیکھنے والا اسے ایک چھوٹا سا دانہ سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس نے کیا بڑھنا ہے مگر پیچ جانتا ہے کہ اس کے اندر کس قدر بڑھنے کی طاقت ہے۔بے شک اس وقت ہم کمزور ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم نے دنیا پر چھا جانا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی حفاظت ہمارے ذریعہ ہوگی۔اگر ہم اس دعوے میں جھوٹے ہیں تو زمانہ اسے ظاہر کر دے گا اور اگر سچے ہیں تو بھی زمانہ ظاہر کر دے گا اور ظاہر کر بھی رہا ہے۔ہماری جماعت پر پچاس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس عرصہ میں ہماری کیا کیا مخالفتیں نہیں کی گئیں اور ہمارے خلاف کیا کیا شرارتیں نہیں ہوئیں مگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھتے ہی جارہے ہیں اور اگر کبھی نہیں بڑھتے تو یہ ہماری اپنی کمزوری ہوتی ہے جیسے دانے کے اپنے اندرا اگر کوئی نقص ہو تو وہ نہیں بڑھے گا