خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 87

خطبات محمود ۸۷ سال ۱۹۳۶ء اسی طرح ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے اگر رکیں تو رکیں ورنہ خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر بے انتہاء قابلیتیں رکھی ہیں۔پس ہم حکومت کے بھی خیر خواہ ہیں اور عایا کے بھی مگر بعض افسر ہماری بلا وجہ مخالفت کر رہے ہیں۔اب انہوں نے پینترا بدلا ہے۔پہلے انہوں نے بعض بیوقوفوں کو آلہ کار بنایا تھا مگر جب دیکھا کہ یہ بیوقوف تو ہمیں بھی بد نام کر رہے ہیں تو اب ایسا رویہ اختیار کیا ہے جو بظاہر زیادہ محتاط ہے مگر ظلم اب بھی موجود ہے اور مجھے امید ہے کہ جس طرح انہیں پہلے شکست ہوئی ہے اب بھی ہوگی کیونکہ ہمارا مدار تدابیر پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ہے۔ایک دفعہ ایران کے بادشاہ نے گورنر یمن کو لکھا کہ رسول کریم ﷺ کو گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔گورنر نے بعض آدمی مدینہ میں بھیجے جنہوں نے جا کر کہا کہ ہمارے شہنشاہ کا ایسا حکم ہے۔آپ نے انہیں فرمایا کہ ٹھہر وہم دو تین دن تک جواب دیں گے۔جب ایک دو دن گزر گئے تو انہوں نے کہا کہ دیر ٹھیک نہیں گورنریمن نے کہا ہے کہ بادشاہ نے غلط خبروں کی بناء پر ایسا حکم دیا ہے آپ آجا ئیں تو میں سفارش کروں گا۔آپ نے فرمایا کہ ٹھہر وہم جواب دیں گے۔اگلے روز انہوں نے پھر از راہ نصیحت کہا کہ دیر اچھی نہیں بادشاہ بگڑ جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گورنر سے کہہ دو کہ ہمارے خدا نے اس کے خدا کو مار دیا ہے۔انہوں نے پھر خیر خواہی کے طور پر کہا آپ انکار نہ کریں بادشاہ ناراض ہو گیا تو آپ کی ساری قوم کو تباہ کر دے گا مگر آپ نے فرمایا کہ بس جاؤ اور یہ جواب دے دو۔وہ چلے گئے اور گورنر کو یہ جواب دے دیا۔اُس نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے اگر یہ بات ٹھیک نکلی تو یہ شخص سچا ہو گا۔چند روز کے بعد ایک جہاز ایران سے آیا جس میں سے کچھ افسر نکلے اور انہوں نے گورنر کو ایک سر بمہر لفافہ دیا۔مُہر کو دیکھتے ہی گورنر نے کہا کہ مدینہ والے شخص کی بات کچی معلوم ہوتی ہے کیونکہ خط پر مہر نئی تھی۔جب اس نے لفافہ کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ ظالم تھا اس لئے ہم نے اسے قتل کر کے زمام حکومت خود سنبھال لی ہے تم لوگوں سے ہماری وفاداری کا عہد لو۔نیز ہمارے باپ نے مدینہ کے ایک شخص کے متعلق ایک ظالمانہ حکم دیا تھا ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں ہے۔پس جو جماعتیں خدا تعالیٰ سے تعلق کر لیتی ہیں وہ بندوں سے نہیں ڈرا کرتیں۔حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکانے والے کتنے خوش تھے کہ ہم نے عیسائیت کا خاتمہ