خطبات محمود (جلد 17) — Page 85
خطبات محمود ۸۵ سال ۱۹۳۶ء سی ہے جو اُسی شاخ کو کاٹ رہا تھا جس پر بیٹھا تھا۔درخت کے نیچے سے کوئی عقلمند گزرا تو اُس نے کی کہا بیوقوف! یہ کیا کر رہا ہے؟ تو گر جائے گا۔اُس نے کہا جاؤ تم بڑے نبی آئے ہو۔اُس نے کہا اس کی میں نبوت کی تو کوئی بات نہیں یہ تو عام بات ہے کہ جس شاخ پر بیٹھے ہو اُسی کو کاٹ رہے ہو یہ کٹ کر گرے گی تو ساتھ ہی تم بھی گر جاؤ گے مگر اُس نے اُس کی بات نہ مانی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ شاخ کٹ کر گری تو وہ بھی ساتھ ہی نیچے آ گرا اور پھر جلدی سے اُٹھ کر پیچھے بھاگا کہ تم تو عالم الغیب ہو بتاؤ میں کب مروں گا ؟ تو اِن افسروں کی مثال بھی شیخ چلی کی سی ہے وہ اس تنے کو کاٹ رہے ہیں جوان کی اور ساری دنیا کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔انبیاء کو اللہ تعالی ساری دنیا کی حفاظت کا ذریعہ بنا کر بھیجتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکومت اور پبلک دونوں کی حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ہی ذریعہ دنیا میں امن قائم کرے گا کیونکہ امن کی بنیاد اب اخلاق پر ہوگی اور جو اس جماعت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ دراصل اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔مسلمانوں کے لئے جب بھی حقیقی نقصان کا وقت آیا ہے ہم نے ان کی مدد کی ہے اور آئندہ بھی وہ دیکھیں گے کہ ان کے مصائب کو اُٹھانے کیلئے ہماری جماعت ہمیشہ تیار رہے گی۔اسی طرح ہندوستان میں اگر کبھی ہندوؤں یا سکھوں کیلئے حقیقتی نقصان کا وقت آیا تو اُس وقت بھی احمد یہ جماعت ہی ان کے بچانے کا ذریعہ ہوگی۔اور اگر کوئی وقت حکومت یا برطانوی قوم پر ایسا آیا تو اُس وقت بھی ہماری جماعت ہی ان کے بچانے کا ذریعہ ہوگی کیونکہ ہماری رشتہ داری بندوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہے اور ہم دنیا میں انصاف چاہتے ہیں۔باوجود یکہ ہم مسلمان ہیں لیکن اگر کوئی وقت ایسا آئے کہ مسلمان ، ہندوؤں یاسکھوں پر ظلم کریں تو اُس وقت احمدی مظلوم کا ہی ساتھ دیں گے۔اور اگر رعایا حکومت پر ظلم کرے گی تو اُس وقت بھی ہم مظلوم کا ساتھ دیں گے اور دیتے رہے ہیں۔نادان احراری ہمیں یہ طعنے دیتے ہیں کہ ان کا دعوی تھا کہ ہم حکومت کے محافظ ہیں مگر باوجود یکہ بعض افسر ذاتی عداوتوں کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح حکومت سے بلکہ ملک معظم۔غداری کر رہے ہیں مگر پھر بھی اگر کبھی ایسا وقت آئے کہ حکومت پر رعایا ظلم کرے تو حکومت کا ساتھ دیں گے اور اگر حکومت رعایا پر ظلم کرے تو ہم رعایا کا ساتھ دیں گے۔