خطبات محمود (جلد 17) — Page 653
خطبات محمود ۶۵۳ سال ۱۹۳۶ بات پیش کی تھی کہ ہم نے تحریک جدید کا وعدہ لکھا یا تھا مگر اس وقت ہمیں اپنی طاقت کا علم نہ تھا اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر تحریک جدید کا چندہ ادا کریں تو انجمن کے چندے ادا نہیں کر سکیں گے اس لئے ہمیں تحریک جدید کا چندہ معاف کر دیا جائے تو اُن کا تحریک جدید کا چندہ معاف کر دیا گیا۔مگر منافق کیلئے ان دلائل کا بیان کرنا فضول ہے کیونکہ منافق کو دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی اور جب اُس کے اعتراض کا جواب دے دیا جائے تو اول تو وہ کہہ دیتا ہے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں میں نے تو اعتراض ہی نہیں کیا پھر اگر ثابت کر دیا جائے کہ اُس نے اعتراض کیا تھا تو وہ یہ کہ دیتا ہے کہ غلط فہمی ہوگئی میرا مطلب کچھ اور تھا۔پھر اگر یہ بھی ثابت کر دیا جائے کہ جو کچھ اُس نے کہا تھا اس کے متعلق کوئی غلط فہمی ہرگز نہیں ہوئی اس کا وہی مطلب تھا جولیا گیا۔تو پھر کہتا ہے کہ میں نے کہا تو تھا مگر اب جو آپ نے جوابات دیئے ہیں ان سے میری پوری تشفی ہو گئی ہے اور میرا ایمان دوبارہ تازہ ہو گیا ہے اور یہ فقرہ اتنی بار دہراتا ہے کہ سادہ لوح مؤمن بھی سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے امام کی زبان میں کس قدرتاً شیر ہے کہ اس گمراہ شدہ انسان کا ایمان پھر تازہ ہو گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان تازہ جھوٹوں اور جھوٹی قسموں سے اُس کے اندرا گر کوئی ذرہ ایمان کا تھا بھی تو وہ بھی ضائع ہو چکا ہوتا ہے۔اس کے بعد جب یہ منافق اپنے احباب کی مجلس میں جاتا ہے تو کہتا ہے کہ جی! کیا کریں گزارہ جو کرنا ہوا اور ان اشخاص کو گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے جنہوں نے اس کا بھانڈا پھوڑا تھا اور کہتا ہے کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ خبیث ایسا بے وفا نکلے گا اس چغلخور کو چغلی کرتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی اور اس کے ساتھ منافق سر ہلاتے ہوئے اُس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے اور کہیں گے کہ آجکل کا زمانہ ہی ایسا گندہ ہو گیا ہے اب تو سگے بھائی پر بھی انسان اعتبار نہیں کر سکتا اور ان بد معاشوں میں سے کوئی بھی تو یہ محسوس نہیں کرے گا کہ خبیث وہ خود ہیں، بے وفا وہ خود ہیں ، چغل خور وہ خود ہیں اور بے اعتبار وہ خود ہیں۔در حقیقت منافق کی مثال شتر مرغ کی ہوتی ہے جسے کسی نے کہا تھا کہ آؤ تم پر بوجھ لادیں تو اُس نے کہا کہ کبھی مرغوں پر بھی بوجھ لادا جاتا ہے اور جب اُسے کہا گیا کہ اگر تم مرغ ہو تو پھر اُڑتے کیوں نہیں تو اُس نے جواب دیا کہ کبھی اُونٹ بھی اُڑا کرتے ہیں۔تو منافق شتر بھی ہوتا ہے اور مرغ بھی۔اگر اُس کے ایک دعوے کی بناء پر اُس پر اعتراض کیا جائے تو وہ دوسرے دعوے کی