خطبات محمود (جلد 17) — Page 652
خطبات محمود ۶۵۲ سال ۱۹۳۶ کے سامنے ناظروں کی شکایت اور خلیفہ کی براءت کی تھی چلانے لگ جائیں گے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے خلیفہ سے کس قدر انس ہے ان صاحب کو غلط فہمی لگ گئی ہے ورنہ یہ تو بے شک خلیفہ کے خلاف باتیں کہہ رہے تھے لیکن میں اس کی تردید کرتا چلا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ نہیں سب قصور ناظروں اور دوسرے افسروں کا ہے اور وہ بیچارہ شخص بھی اپنے تجربہ کی بناء پر جو در حقیقت تجربہ نہ تھا فریب تھا شہادت دینے لگ جائے گا۔قرآن کریم میں منافق کی علامت یہ بتائی ہے کہ وہ حلاف اور جھوٹا ہوتا ہے یعنی جھوٹ بھی خوب بولتا ہے لیکن پھر جھوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے قسمیں بھی خوب کھا تا ہے۔میں نے شروع میں ہی بتایا تھا کہ تحریک جدید کے متعلق منافقوں میں چہ میگوئیاں ہوں گی کیونکہ منافق زیادہ قربانیوں کی برداشت نہیں کر سکتا مثلاً منافق کہیں گے کہ انجمن کی مالی حالت اس قدر خراب ہے اور اس پر تحریک جدید کے چندے اسے اور بگاڑ رہے ہیں۔چنانچہ مجھے ابھی بعض لوگوں کی نسبت جو معزز اور باوقار سمجھے جاتے ہیں اور جنہیں لوگ معتبر اور دیانتدار خیال کرتے ہیں اطلاع ملی ہے کہ وہ اپنی مجلس میں ذکر کر رہے تھے کہ اس زمانہ میں تحریک جدید کو جاری کر کے انجمن کی مالی حالت اور خراب کر دی گئی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ عام چندے ادا نہیں کر سکتے۔ان کا پہلا جھوٹ تو انجمن کے رجسٹر دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کیونکہ رجسٹروں سے پتہ چلتا ہے کہ انجمن کی آمد آگے سے زیادہ ہے اگر قرضہ ہے تو اس وجہ سے کہ اخراجات آمد کی زیادتی سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔اس لئے نہیں کہ آمد پہلے سے کم ہوگئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ قریب کے سالوں میں عموماً جھٹ پٹ آمد میں کمی آنے لگتی تھی مگر اب متواتر کئی سال سے آمد ایک ہی سطح پر قائم ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کسی ہفتہ یا مہینہ میں کوئی کمی ہو کیونکہ جو لوگ قربانی کے عادی ہو جاتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ قربانی کرتے ہیں اس لئے تحریک جدید نے آمد میں کمی نہیں کی بلکہ زیادتی کی ہے یا کم سے کم اسے ایک ہی سطح پر قائم کر دیا ہے۔پھر جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ پر اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا تحر یک جدید طوعی ہے اس میں حصہ لینے کیلئے کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اُن ہی سے اس کا چندہ لیا جاتا ہے جو خوشی سے ادا کریں اور انجمن کے چندے بھی باقاعدہ ادا کریں بلکہ گزشتہ سال کئی لوگوں نے ہے