خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 654 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 654

خطبات محمود ۶۵۴ سال ۱۹۳۶ پناہ لے لیتا ہے اور اگر دوسرے دعوے کی بناء پر اس پر اعتراض کیا جائے تو وہ پہلے کی یا پھر ایک تیسرے دعوے کی پناہ لے لیتا ہے اُس پر وعظ ونصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ہر گرفت پر اُس کا پہلا جواب تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جب دلیل سے ثابت کر دیا جائے کہ جو الزام لگایا گیا اُس کے مطابق ہی اس نے گفتگو کی تھی تو اس کا دوسرا جواب یہ ہوتا ہے کہ اب مجھے یاد آ گیا ہے کہ بے شک میں نے ایسا ہی کہا تھا مگر میرا مطلب اس سے یہ نہیں تھا جو سمجھا گیا ہے اور جب یہ بھی ثابت کر دیا جائے کہ اس کا مطلب بھی اس گفتگو سے یہی تھا تو تیسرا جواب اُس کا یہ ہوتا ہے کہ میرا مطلب اعتراض کا نہیں تھا بلکہ سمجھنے کا تھا اور الْحَمْدُ لِلهِ کہ اب میں سمجھ گیا ہوں اور میرا ایمان تازہ ہو گیا ہے بلکہ میری اس گفتگو کی وجہ سے کئی اور میرے جیسے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچ گیا ہو گا جن کے دلوں میں بھی ایسے خیالات پیدا ہور ہے ہوں گے۔اگر اس طرح سوال نہ کیا جائے تو معارف بھی تو نہیں کھلتے اور ایمان کو تازگی بھی حاصل نہیں ہوتی۔غرض اعتراض سوال بن جاتا ہے اور منافقت دوسروں کے ایمان کو تازہ کرنے کے ذریعہ کا نام پاتی ہے۔مگر منافق ہر موقع پر جھوٹ بولتا ہے اور اس پر حُسنِ ظن رکھنے والا مطمئن ہو جاتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ کہ اب اس شخص کی تسلی ہوگئی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جتنی سفارشیں منافقوں کی میرے پاس آتی ہیں اتنی مخلص محتاجوں کی سفارشیں نہیں آتیں۔محلہ میں مخلص حاجت مند ہوتے ہیں ، بیوائیں مصیبت میں ہوتی ہیں ، یتیم آوارہ پھر رہے ہوتے ہیں ،مگر کوئی خبر نہیں لیتا لیکن ادھر کسی منافق کے متعلق کوئی سوال اُٹھا اور ادھر بڑے بڑے ثقہ اور وزنی آدمی سفارشوں پر سفارشیں لئے آتے ہیں۔ملاقاتوں اور چٹھیوں کے ذریعہ ناک میں دم کر دیتے ہیں۔کئی تو کہتے ہیں کہ اس کے متعلق غلط فہمی ہوگئی ہے۔کئی کہتے ہیں کہ اب اس نے بچی تو بہ کر لی ہے اور اتنا کوئی نہیں سوچتا تو بہ تو وہ نعمت ہے کہ معمولی مؤمن کو بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔پھر اُس شخص کو اس قدر جلدی نایاب تحفہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی طرح حاصل ہوا کہ جس کی نسبت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ دوزخ کے سب سے نچلے حصہ میں رکھے جائیں گے اور وہ سادہ لوح مؤمن جو منافقوں کی اس رنگ میں سفارش کرتے ہیں کہ یہ منافق ہی نہیں ان کے بارہ میں غلط نہی ہوگئی ہے کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہر شخص جس پر منافقت کا الزام لگا ہے بری ہوتا ہے تو وہ منافق کہاں ہیں جن کی نسبت خدا اور اس کے رسول کے کلام میں