خطبات محمود (جلد 17) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۶ کامل نہیں ہوتا ، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں عمل کی کمزوری اس وجہ سے ہوتی ہے کہ ان کا علم کامل نہیں ہوتا اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایمان اور علم رکھتے ہیں لیکن دوسرے ذرائع سے ان کی کے قلوب پر ایسا زنگ لگ جاتا ہے کہ یہ دونوں علاج ان کیلئے کافی نہیں ہوتے اور ضروری ہوتا ہے کہ ان کیلئے بیرونی ہتھیاروں سے کام لیا جائے۔جیسے پاؤں کی ہڈی جب بعض دفعہ ٹوٹ جاتی ہے تو ڈاکٹر ہڈی کو جوڑ کر لکڑی کا اسے سہارا دے دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد ہڈی اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم ہو جاتی ہے اور سہارے کی اسے ضرورت نہیں رہتی اسی طرح اس قسم کے انسانوں کیلئے بھی کچھ دنوں کیلئے سہارا کی ضرورت ہوتی ہے۔گو پہلے اس میں کام کرنے کی ہمت نہیں ہوتی لیکن سہارا لیتے لیتے آخر سے صحیح طور پر کام کرنے کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ سہارے کا محتاج نہیں رہتا۔ان ذرائع کا جو پہلا حصہ ہے یعنی قوت ارادی کی مضبوطی ، اس کیلئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں آتے ہیں اور تازہ اور زندہ معجزات و نشانات دکھاتے ہیں ہماری جماعت کے پاس تو اللہ تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات کا اتنا وافر سامان موجود ہے کہ اتنا سامان کیا ، اس سامان کے قریب قریب بھی کسی کے پاس موجود نہیں اور اسلام کے باہر کوئی مذہب دنیا میں اس وقت ایسا نہیں جس کے پاس خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام ، اس کے زندہ معجزات اور اس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے کو والے نشانات موجود ہوں جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سے صاف کرتے اور اللہ تعالی کی معرفت سے لبریز کر دیتے ہیں لیکن باوجود اس ایمان کے اور باوجود ان تازہ اور زندہ معجزات کے پھر کیوں ہماری جماعت کے اعمال میں کمزوری ہے؟ اس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے سلسلہ کے علماء اور واعظین نے ان چیزوں کے پھیلانے کی طرف اب تک کوئی توجہ نہیں کی۔تم یہ دیکھو گے کہ ہمارے علماء جاتے ہیں اور مناظروں میں وفات مسیح پر گلا پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرتے ہیں مگر تم کبھی نہیں دیکھو گے کہ انہوں نے جماعت کے سامنے احمد یہ کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی کوشش کی ہو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگ تو مل جائیں گے جو وفات مسیح کے دلائل جانتے ہوں گے مگر ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنہیں علم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کو کس رنگ میں پیش کیا ، آپ نے معرفت