خطبات محمود (جلد 17) — Page 449
خطبات محمود ۴۴۹ سال ۱۹۳۶ تیسری چیز جس سے عملی کمزوری سرزد ہوتی ہے وہ قوت عملیہ کا فقدان ہے۔اس قوت عملیہ کے فقدان کے بھی بعض اسباب ہوتے ہیں جن میں سے مثلاً ایک سبب عادت ہے۔ایک تو کے اندر کسی قدر قوت ارادی بھی ہوتی ہے، اس میں قوت علمی بھی ہوتی ہے لیکن وقت پر عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ عمل میں کمزوری دکھا دیتا ہے۔یا ایک شخص جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے وہ دل میں تڑپ اور خواہش بھی رکھتا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو لیکن جب وقت آتا ہے تو مادی اشیاء کے لئے جذبات محبت یا مادی نقصان کے خیال سے جذبات خوف اُس کی پر غالب آجاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے ذریعہ کو اختیار نہیں کرسکتا ایسے لوگوں کیلئے اندرونی نہیں بلکہ بیرونی علاج کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جیسے چھت کی کڑیاں جب گرنے لگیں تو ضروری ہوتا ہے کہ ان کے نیچے سہارا دیا جائے اگر بجائے سہارا دینے کے چھت کے اوپر مٹی ڈالنی شروع کر دی جائے تو کڑیاں مٹی کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی اور گر جائیں گی۔اس میں شبہ نہیں کہ ایک وقت چھت پر مٹی ڈالنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر دوسرے وقت مٹی ڈالنے کی بجائے چھت کی کڑیوں کے نیچے کوئی سہارا کھڑا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قوت عملی کی انتہائی کمزوری کی صورت میں بیرونی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ سہارا کیا ہوسکتا ہے اس کیلئے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب ایک شخص کو کسی بات کا علم پہلے سے حاصل ہو تو سہارا یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اسے خدا کے غضب سے خوف دلایا جائے یا اللہ تعالیٰ کی محبت کے حاصل کرنے کی تلقین کی جائے کیونکہ ان باتوں کا تو اسے پہلے سے علم ہے۔قوت ارادی اس میں ہے مگر کامل نہیں ، علم ہم نے دیا مگر خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے غضب کا خوف دل کے زنگ کی وجہ سے اس پر اثر نہ کر سکا ، اب اس کیلئے کسی اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ چیز سوائے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ خدا تو اس کی نظروں سے اوجھل کی ہے لیکن انسان اس کی نظر سے اوجھل نہیں اسی لئے وہ خدا سے نہیں ڈرتا لیکن بندے سے ڈر جاتا ہے۔پس اگر ایسے شخص کے دل میں ہم بندے کا رُعب ڈال دیں یا مادی طاقت سے کام لے کر اُس کی اصلاح کریں تو اس کی بھی اصلاح ہوسکتی ہے۔غرض یہ تینوں قسم کے لوگ دنیا میں موجود ہیں اور دنیا میں یہ تینوں بیماریاں اکٹھی موجود ہوتی ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے عمل میں کمزوری اس وجہ سے ہوتی ہے کہ ان کا ایمان