خطبات محمود (جلد 17) — Page 451
خطبات محمود ۴۵۱ سال ۱۹۳۶ اور محبت الہی کے حصول کے کیا طریق بتائے ، اس کے قرب کے حاصل کرنے کی آپ نے کن الفاظ میں تاکید کی ، خدا تعالیٰ کے تازہ کلام اور اس کے معجزات و نشانات آپ پر کس شان کے ساتھ ظاہر ہوئے اور چونکہ وفات مسیح کے مسئلہ سے عملی اصلاح نہیں ہو سکتی اس لئے جماعت اس پہلو میں کمزور رہتی ہے پس جب تک اس طرف ہماری جماعت کے علماء توجہ نہیں کرتے اور اس امر کی طرف ویسی ہی توجہ نہیں کرتے جیسی توجہ انہیں کرنی چاہئے اُس وقت تک جماعت کا وہ طبقہ جو قوت ارادی کی کمزوری کی وجہ سے عملی اصلاح نہیں کر سکتا ڈبکیاں کھاتا رہے گا۔تم اپنے محلوں میں پھر کر دیکھ لو کتنے نو جوان ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور انہیں بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو ، وہ بھی الہام الہی کے مورد بنیں اور ان سے بھی خدا تعالیٰ ہمکلام ہو۔اگر واقعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام انہیں معلوم ہوتا ، اگر انہیں پتہ ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے کس قدر عظیم الشان نشانات دکھائے اور خدا تعالیٰ نے کس طرح آپ سے کلام کیا تو کیا ممکن تھا کہ وہ اس مقام کے حصول کی خواہش نہ کرتے ؟ وہ کسی کو اچھا کپڑا پہنتے دیکھتے ہیں تو فوراً اس کی نقل میں اچھا کپڑا پہننا شروع کر دیتے ہیں ، وہ کسی کو اچھی ٹوپی کی پہنے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی اسی قسم کی ٹوپی لیں ، پھر کس طرح ممکن ہے کہ انہیں اس بات پر یقین کامل ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے الہامات نازل ہوتے تھے ، وہ آپ کیلئے تازہ بتازہ نشانات ظاہر کیا کرتا تھا اور ان کے دلوں میں حسرت پیدا نہ ہوتی اور وہ بھی ان باتوں کے حصول کیلئے کوشش نہ کرتے۔پھر غور کرو کہ کیا واقعہ میں ان میں وحی والہام کا مورد بننے کی وہی خواہش ہے جو ایک نبی کے قریب زمانہ کے ماننے والوں میں ہونی چاہئے؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ لڑکے ایک کو اچھی پگڑی پہنے دیکھتے ہیں تو فوراً اس جیسی کی پگڑی خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، عمدہ رومی ٹوپی پہنے دیکھتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ ان کے سر پر بھی ویسی ہی رومی ٹوپی ہو، کسی کے پاس اچھا تو یہ دیکھتے ہیں تو اس کی نقل میں خود بھی ایک اچھا سا تولیہ خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض وہ ہر چیز کی نقل کرنا چاہتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ یہ عظیم الشان چیز کہ خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہو، اُس کا الہام اُس پر نازل ہو، اس کی وحی کا وہ مورد ہو اور اس کے تازہ اور زندگی بخش کلام کو سننے والا ہو، اس کی نقل کرنے کی وہ کوشش نہیں